میرانی ڈیم: صفائی نہ ہونے کے باعث پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتا آبی ذخیرہ
تحریر (ایم دشتی )
بلوچستان کے ضلع کیچ میں واقع میرانی ڈیم ایک اہم آبی منصوبہ تھا جس کا مقصد نہ صرف زراعت کو فروغ دینا تھا بلکہ مقامی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی یقینی بنانا تھا۔ اس ڈیم سے دشت اور آس پاس کے دیہات کو پانی فراہم کیا جاتا رہا ہے، جس نے کئی سالوں تک علاقے کی معیشت کو سہارا دیا۔ تاہم آج اس ڈیم کی حالت زار دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی قدرتی نعمتوں کی حفاظت کے حوالے سے کتنی بڑی کوتاہی کی ہے۔
میرانی ڈیم کی تعمیر کے بعد سے آج تک اس کی کوئی بڑی صفائی یا مرمت نہیں کی گئی۔ گزرے وقت کے ساتھ ڈیم کی تہہ میں بڑی مقدار میں گاد، ریت اور مٹی جمع ہوتی رہی، جس نے اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے۔ آج یہ صورتحال ہے کہ بارش کے موسم میں بھی جب ڈیم بھرنے کے امکانات ہوتے ہیں، تب بھی پانی پوری طرح ذخیرہ نہیں ہو پاتا کیونکہ گاد نے ڈیم کی گہرائی کو محدود کر دیا ہے۔
میرانی ڈیم مقامی کسانوں کی زمینوں کو سیراب کرتا تھا، مگر اب پانی کی شدید قلت نے زراعت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ کھیت سوکھ رہے ہیں، فصلیں برباد ہو رہی ہیں اور روزگار کے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں۔ پینے کے پانی کی فراہمی میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں، جو ایک سنگین انسانی بحران کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
یہ بات افسوسناک ہے کہ حکومتی سطح پر اس مسئلے کی طرف کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔ تاحال ڈیم کی صفائی یا مرمت کا کوئی جامع منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔
اگر فوری طور پر ڈیم کی صفائی نہ کی گئی تو اس کی باقی ماندہ صلاحیت بھی ختم ہو جائے گی، جس کے بعد اس کا وجود محض ایک تاریخی مقام بن کر رہ جائے گا۔ میرانی ڈیم کی بحالی کے لیے گاد نکالنے کا عمل ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو مستقبل میں ڈیم کی دیکھ بھال کے لیے ایک واضح پالیسی مرتب کرنی ہوگی تاکہ یہ قیمتی آبی ذخیرہ اپنی افادیت بحال کر سکے۔
بلوچستان اور وفاقی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ میرانی ڈیم کی فوری صفائی، مرمت، اور بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ یہ صرف پانی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی اور معاشی بحران ہے جسے بروقت حل کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

