تربت(گدروشیا پوائنٹ)یونیورسٹی آف تربت میں پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ و طالبات نے 27 اگست کو احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی کیبورڈ چوک سے شروع ہوئی اور ایڈمن بلاک تک پہنچی جہاں طلبہ نے دھرنا دیا۔
مظاہرین کے مطابق 2025 میں پولیٹیکل سائنس کے پہلے بیچ کی ایک طالبہ کو صرف اس وجہ سے پیپر سے اٹھا دیا گیا کہ اس کی حاضری پوری نہیں تھی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ باقاعدگی سے کلاسز لیتی رہی ہے۔ اس بات کی گواہی پوری کلاس دینے کو تیار ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس مسئلے پر چیئرمین ڈیپارٹمنٹ اور یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی، جس کے باعث احتجاج کرنا پڑا۔
طلبہ نے بتایا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد جب یونیورسٹی دوبارہ کھلی تو نتائج جاری کیے گئے جن میں 20 سے زائد طلبہ کو ڈراپ آؤٹ کر دیا گیا اور بائیکاٹ شدہ پیپرز کے نمبر بھی شامل نہیں کیے گئے۔ اس دوران انتظامیہ نے طلبہ سے معافی نامہ لکھوایا اور وعدہ کیا کہ ان کے پیپرز لیے جائیں گے مگر بعد میں اپنے وعدے سے مکر گئی۔ نہ تو پیپر لیے گئے اور نہ ہی ڈراپ آؤٹ طلبہ کو دوبارہ فعال کیا گیا۔
طلبہ نے ضلعی انتظامیہ، سیاسی و سماجی شخصیات اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ طلبہ کا تعلیمی مستقبل ضائع نہ ہو۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے احتجاج جاری رہے گا۔
طلبہ کے چار مطالبات۔غیر حاضری کا الزام لگانے والی ٹیچر کے خلاف کارروائی کی جائے۔متاثرہ طالبہ کا پیپر لیا جائے۔احتجاج کے باعث بائیکاٹ شدہ پیپرز دوبارہ لیے جائیں۔بائیکاٹ میں شامل طلبہ کو short of attendance نہ کیا جائے۔

