تربت(گدروشیا پوائنٹ)تھیلیسمیا پر کام کرنے والے بلوچستان کے معروف فلاحی ادارہ کیچ تھیلیسمیا کٸیر سنٹر نے حکومت بلوچستان کے اس فیصلے کو تھیلیسمیا کی روک تھام کے لیے بہترین حکمت عملی قرار دیا ہے۔
کیچ تھیلیسمیا کٸیر سنٹر تربت نے حکومت بلوچستان کے اس اقدام کو سراہتے ہوٸے کہا ہے کہ وہ بذات خود اپنی مدد آپ ضلع تربت اور گرد نواح کے اضلاع سے آنے والے 500 کے قریب تھیلیسمیا کے بچوں کو نہ صرف فری آف کوسٹ خون اور دواٸیاں فراہم کررہا ہے بلکہ ان تمام اضلاع اور خاص کر ضلع تربت کے اکثر و بیشتر اسکولز ، کالجز اور یونیورسٹی میں پریونشن کے حوالے سے طلباء اور عام عوام الناس کو آگاہی فراہم کررہا ہے تاکہ وہ شادی سے پہلے یہ ٹیسٹ لازمی کرواکر اپنے آنے والی نسل کو اس موذی مرض سے بچا سکیں۔
کیچ تھیلیسمیا کٸیر سنٹر نے مزید کہا ہے کہ وہ حکومت بلوچستان سے اپیل کرتا ہے کہ وہ بلوچستان کے تمام اضلاع کے ڈی سی صاحبان کو فوری طور پر نوٹیفیکیشن جاری کرے تاکہ وہ اس فیصلے کو جلد از جلد عمل درآمد میں لاسکیں۔
کیچ تھیلیسمیا کٸیر سنٹر کی جانب سے حکومت بلوچستان سے مزید کہا گیا ہے کہ وہ بلوچستان کے تمام رجسٹرڈ علماء کرام کے نکاح نامہ فورم پر یہ لازمی شرط رکھے اور علماء کرام سے اپیل کرے کے وہ تھیلیسمیا کے ٹیسٹ کے بغیر کسی بھی شخص کے نکاح کو نہ پڑھاٸیں تاکہ اس مرض سے ہر شہری محفوظ رہ سکے۔

