کوئٹہ( گدروشیا پوائنٹ)بلوچستان کی سیاست کا ذکر نواب اکبر خان بگٹی کے بغیر نامکمل سمجھا جاتا ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہیں قبائلی سرداری، سیاسی بصیرت اور مزاحمتی سیاست کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ان کی شخصیت ایک طرف طاقتور قبائلی روایات کی نمائندہ تھی تو دوسری طرف صوبائی خودمختاری اور وفاقی سیاست کے اتار چڑھاؤ کی عکاسی بھی کرتی تھی۔
نواب اکبر بگٹی کا اصل نام نواب اکبر شہباز خان بگٹی تھا جو 12 جولائی 1926 میں پیدا ہوئے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے قبیلے کی قیادت سنبھالی۔ وہ 1950 اور 1960 کی دہائی میں وفاقی کابینہ کا حصہ رہے۔ 15 فروری 1973 تا 22 نومبر 1974 تک بلوچستان کے گورنر اور 4 فروری 1989 تا 6 اگست 1990 تک صوبے کے چھٹے وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے 19 دسمبر 1957 تا 8 اپریل 1958 وفاقی وزیر دفاع رہے ہیں 1989 تا 2006 کو جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ تھے
ان کی سیاست کا بنیادی محور بلوچستان کے قدرتی وسائل، بالخصوص سوئی گیس، اور ان پر مقامی حقِ ملکیت کا مطالبہ رہا۔ یہی مطالبات وقت کے ساتھ ریاستی اداروں کے ساتھ ان کے اختلافات کی بنیاد بنے۔
2004 کو سوئی میں موجود لیڈی ڈاکٹر کیساتھ زیادتی کو قبائلی روایات کے خلاف قرار دیکر خاتون کو انصاف کی فراہمی کیلئے سیاسی مزاحمت شروع کی۔ انکے گھر پر حملہ آور ہونے انکا گھیرا تنگ کرنے پر ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے پہاڑوں میں ان کی مزاحمتی سیاست نے شدت اختیار کر لی، جو بالآخر 26 اگست 2006 کو فضائی اور زمینی آپریشن کے دوران قتل کیا گیا ۔انکے 6 بیٹے طلال اکبر بگٹی ، جمیل اکبر بگٹی ، سلال اکبر بگٹی ، سلیم اکبر بگٹی ، شاہ زور اکبر بگٹی ، ریحان اکبر بگٹی اور شازین بگٹی، گہرام بگٹی اور بیرون ملک میں مقیم براہمداغ بگٹی انکے پوتے ہیں
ان کی موت کے بعد بلوچستان بھر میں شدید احتجاج ہوا اور یہ واقعہ صوبے کی مزاحمتی سیاست کا ایک نیا باب ثابت ہوا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیئے جاتے ہیں
اکبر بگٹی کے حامی انہیں قومی وقار اور صوبائی حقوق کی علامت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک وہ ایک سخت گیر قبائلی سردار تھے۔ تاہم اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے بلوچستان اور پاکستان کی سیاست پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں اور ان کی وراثت آج بھی سیاسی مباحثوں کا محور بنی ہوئی ہے۔

