تربت: ڈاکٹر عزیزاللہ اغوا کے بعد تشدد کا شکار، گاڑی اور دوائیاں چھین لی گئیں

تربت(گدروشیا پوائنٹ)پنجگور میں مسلح افراد نے معروف ڈاکٹر عزیزاللہ کو ہسپتال کے سامنے سے اغوا کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی پرایمو گاڑی سمیت دوائیاں بھی چھین کر لے گئے۔
سماجی اور کاروباری شخصیت عباس مراد کے مطابق واقعہ دو روز قبل پنجگور کے علاقے راہی نگور میں پیش آیا، جب ڈاکٹر عزیزاللہ اپنی ڈیوٹی کے بعد ہسپتال سے باہر نکل رہے تھے کہ مسلح افراد نے انہیں گاڑی سمیت زبردستی اغوا کر لیا۔ اغوا کاروں نے کئی گھنٹے بعد ڈاکٹر کو تشدد زدہ حالت میں چھوڑ دیا تاہم گاڑی اور دوائیاں اپنے ساتھ لے گئے۔
پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی ہے مگر تاحال اغواکار گرفتار نہیں ہو سکے اور گاڑی بھی برآمد نہیں ہوئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات نہ صرف شہریوں کی جان و مال کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ صحت کی سہولیات پر بھی براہِ راست منفی اثر ڈال رہے ہیں۔
سماجی اور عوامی حلقوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری کارروائی کریں، ملوث عناصر کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے، اور بالخصوص ڈاکٹر عزیزاللہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے