گوادر: پانی و بجلی کے سنگین بحران پر جی پی اے ہیڈ آفس میں اہم اجلاس

گوادر (گدروشیا پوائنٹ) گوادر رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اور چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ کی سربراہی میں پانی اور بجلی کے سنگین بحران پر جی پی اے ہیڈ آفس میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمٰن، گوادر پورٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل داؤد بلوچ، چیف انجینئر ادارہ ترقیات گوادر سید محمد بلوچ، سپریٹنڈنٹ انجینئر کیسکو شہزاد کھیتران، ایکسین گریڈ اسٹیشن یاسین بلوچ، ایکسین کیسکو حسین بخش، ایکسیئن پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ انجینئر مؤمن بلوچ اور چینی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گوادر جیسے اہم شہر کو آج بھی پانی اور بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اکثر اوقات 20 سے 30 دن تک پانی دستیاب نہیں ہوتا جبکہ بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ غیر مستحکم بجلی کی فراہمی کے باعث گھریلو اور صنعتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں انجینئرز نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پورے مکران ڈویژن کو مستحکم بجلی فراہم کرنے کے لیے کم از کم 128 میگاواٹ درکار ہیں، لیکن موجودہ ٹرانسمیشن لائنز صرف 80 میگاواٹ بجلی منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایران سے ملنے والی بجلی دن کے اوقات میں 12 گھنٹے تک معطل رہتی ہے، جبکہ نیشنل گرڈ سے ملنے والی سپلائی میں بھی بار بار تعطل اور اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بجلی کی فراہمی کے لیے نیشنل گرڈ پر انحصار بڑھایا جائے اور ایران پر انحصار ختم کیا جائے۔ چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے کیسکو افسران سے کہا کہ وہ اپنے تمام مسائل اور رکاوٹوں کو واضح کریں تاکہ انہیں اعلیٰ حکام تک پہنچایا جا سکے اور گوادر جیسے اہم کاروباری و پورٹ سٹی کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے بجلی کے مسئلے پر کیسکو افسران کے ساتھ علیحدہ اجلاس جمعرات کو گریڈ اسٹیشن گوادر میں منعقد کرنے کا اعلان کیا تاکہ ان کے مسائل تفصیل سے سنے جائیں اور بعد ازاں وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کو آگاہ کیا جا سکے۔ پانی کے مسئلے پر حکام نے بتایا کہ گوادر میں پانی کی تقسیم غیر مساوی ہے۔ اکثر طاقتور افراد بڑے کنکشن لگا کر زیادہ پانی حاصل کر لیتے ہیں جبکہ عام گھرانے پانی کی بوند بوند کو ترس جاتے ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پانی کی تقسیم برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیئے تاکہ ہر گھر کو یکساں فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پانی اور بجلی کے مسائل کو وفاقی اور صوبائی سطح پر بہتر انداز میں اٹھایا جائے گا اور بحران کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیئے جائیں گے۔