تربت(گدروشیا پوائنٹ)تربت شہر کے مین بازار میں بجلی کی مسلسل بندش کے خلاف انجمن تاجران اور دکانداروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے شہید فدا چوک پر دھرنا دے کر مرکزی شاہراہ کو بلاک کر دیا۔ احتجاج میں بڑی تعداد میں دکانداروں اور شہریوں نے شرکت کی، جس کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ مظاہرین نے واپڈا اور کیسکو حکام کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بجلی بحال کی جائے۔
دکانداروں نے کہا کہ گزشتہ تین روز سے مین بازار بجلی سے محروم ہے، جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔ کیسکو حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ٹرانسفارمر کی “بش” خراب ہے، تاہم مرمت کے بجائے واپڈا اہلکار دکانداروں سے مرمت کے اخراجات مانگ رہے ہیں، جو کہ سراسر غیر قانونی اور زیادتی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ ہر ماہ باقاعدگی سے بجلی کے بل جمع کراتے ہیں، اس کے باوجود بجلی کی مرمت کے لیے عوام سے پیسے طلب کرنا واپڈا کی نااہلی اور بدعنوانی کو ظاہر کرتا ہے۔
انجمن تاجران کے رہنماؤں نے کہا کہ بازار میں زیادہ تر کاروبار فوٹو اسٹیٹ مشینوں اور برقی آلات پر منحصر ہیں جو براہِ راست بجلی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اگر بجلی بند رہے گی تو ان کا کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو جائے گا اور سینکڑوں خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہو جائیں گے۔ تاجروں نے کہا کہ تین دن گزرنے کے باوجود مسئلے کا حل نہیں نکالا گیا، جو کہ عوام کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔
مظاہرین نے حکامِ بالا سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ٹرانسفارمر کی مرمت کر کے بجلی بحال کی جائے، واپڈا اہلکاروں کی عوام سے زبردستی رقم طلب کرنے کے عمل کا نوٹس لیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بصورت دیگر احتجاجی دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے شہر کی دیگر شاہراہیں بھی بلاک کر دی جائیں گی۔

