تربت: ٹرانسپورٹرز کا احتجاج، ٹائمنگ پابندی کو غیر عملی قرار دے دیا

تربت(گدروشیا پوائنٹ) ٹرانسپورٹ کوچز یونین کے نائب صدر رفیق قاضی اور ٹرانسپورٹر نصیر اسماعیل نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ رات کو مسافر بسوں پر پابندی اور کراچی سے تربت شام کو 6 بجے تلارچیک پوسٹ پر پہنچنے کی پابندی ہم ٹرانسپورٹرز کو قبول نہیں ہے۔ حکومتی ان فیصلوں سے مسافر اور ٹرانسپورٹرز کو کافی مشکلات اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کیسا طریقہ اور قانون ہے کہ کراچی سے تربت آنے والے کوچز ہرحال میں شام چھ بجے تلار چیک پوسٹ کراس کرسکیں۔ لمبا سفر ہے، گاڑیاں مشین ہیں راستے میں خراب ہو سکتی ہیں۔اور سردیوں کا سیزن آرہاہے ہر کسی کو معلوم ہے سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں بڑی ہوتی ہیں کراچی سے تربت آتے ہوئے سورج سفر کے دوران ڈرائیوروں کو بس چلانے میں اچھا خاصہ ڈسٹرب کرتاہے۔ راستے میں بسیں خراب بھی ہوتی ہیں۔ مسافروں کو سفر کے دوران مشکلات پیش آتی ہیں۔ جس سے بسز لیٹ ہوتے ہیں پنکچرز کے دوران ٹائر کی تبدیلی سے اچھا خاصا ٹائم صرف ہوجاتاہے۔ سب کو پتہ ہے اکٹر روڈ طرح طرح ہڑتال کی وجہ بند ہوتے ہیں۔ لمبا سفر ہے راستے میں خطرناک چڑھیاں اور موڑ آتے ہیں اگر خدانخواستہ کوئی گاڑی گر جائے تو راستہ کئی کئی گھنٹہ بلاک رہتاہے۔ہمارے روٹ میں ریسکیو آپریشن کا دور دور تک وجود اور نام نشان تک نہیں ایسے میں کیسے کوئی ٹرانسپورٹ یا انکا بس شام چھ بجے تلار چیک پوسٹ کراس کرسکتاہے۔ ہاں یہ ممکن کہ ہمارے ڈرائیور کوچز کو 150 اور 160کی اسپیڈ تک چلائیں جمپوں کو نہ دیکھیں موڑوں کی خیال نہ کریں پھر دن کے چار بجے تلار چیک پوسٹ کراس ہوسکتا ہے اگر راستے میں تیز رفتاری کے سبب بس کو حادثہ پیش آئے اسکی ساری زمہ داری حکومت اور انتطامیہ پر عائد ہوتی ہے۔جو اسطرح کے ناقابل عمل جو بغیر ٹراسپورٹ یونین اور کوچ مالکان کے مشورے سے حکنامہ جاری کرتے ہیں ٹرانسپورٹ یونین، کوچز مالکان اور مسافر حضرات حکومت اور انٹظامیہ کے اس ناقابل عمل حکمنامے کو مکمل مسترد کرتے ہیں اور ضلعی انتظامیہ سے دستبدانہ اپیل کرتے ہیں کہ ٹائمنگ کی پابندی ختم کی جائے یا کوچز کراسنگ ٹائم 6 کے بجائے 9 بجے رکھا جائے۔ انہوں نے کہاکہ راستے میں مختلف چیک پوسٹس ہیں بیری، تالار،نلیٹ، ہنگول، پور ندی،سمیت درجنوں چیک پوسٹوں پر روکا جاتا ہے یہ تمام چیک پوسٹوں ختم کی جائے تب شاید باقاعدگی سے 6 بجے گاڑیاں پہنچ سکتی ہیں بیان میں کیاگیا کہ مسلسل مطالبات اور اپیل کے باوجود حکومت اور انتظامیہ نے رات کے سفر پر پابندی اور ٹائمنگ کی شرط ختم نہ کی تو ان عوام دشمن فیصلوں کی خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے پر مجبور ہونگے