تربت (گدروشیا پوائنٹ/ سوشل میڈیا ڈیسک) تربت کے نواحی علاقے گوکدان کے مقام “ڈی بلوچ” میں گزشتہ شب زوردار دھماکے اور فائرنگ کی آوازوں سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے کا ہدف مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز کا کیمپ تھا، تاہم فورسز نے اس اطلاع کی تردید کی ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، شدت پسندوں نے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے تمام شہریوں کو محفوظ بنایا۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔ حکام نے واقعے کو بلوچستان میں امن و ترقی کے خلاف بزدلانہ سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں ریاستی طاقت سے کچلی جائیں گی۔ اطلاع کے مطابق واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے گوکدان میں سرچ آپریشن کے دوران دو افراد کو گرفتار کیا ہے، جن کی شناخت فضل الٰہی ولد الٰہی بخش اور زید ولد زاہد علی کے نام سے ہوئی ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق، دھماکے کے فوراً بعد فورسز کی بھاری نفری نے گاؤں کو گھیرے میں لے کر جامع تلاشی کا سلسلہ شروع کیا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ فضل الٰہی کو اُن کی جنرل اسٹور سے گرفتار کیا گیا، جہاں اُن کے ساتھ کام کرنے والا کم سن لڑکا بھی موجود تھا۔ فضل الٰہی سنگین بیماری میں مبتلا ہیں اور مقامی مسجد کے پیش امام کے بیٹے ہیں۔ اہلخانہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

