بسیمہ(گدروشیاء پوائنٹ) محکمہ صحت ضلع واشک سے وابستہ ملازمین کی ایسوسی ایشن، جس میں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور نیشنل پروگرام کے ملازمین شامل ہیں،ان کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ صحت واشک کے 45 ملازمین کی بلا جواز اور غیر قانونی تنخواہوں میں کی گئی کٹوتیوں پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا گیا،اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) واشک نے کسی قسم کا نوٹس، وضاحت یا ثبوت طلب کیے بغیر اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے حاضر سروس ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی ہے، جو کہ سراسر ناانصافی اور ظلم کے مترادف ہے،اجلاس میں مزید کہا گیا کہ ڈی ایچ او واشک سرکاری ایمبولینس گاڑی میں غیر سرکاری اوقات میں دورے کر کے مختلف اداروں میں موجود ملازمین کو مانیٹرنگ کے نام پر ہراساں کر رہا ہے۔ شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واشک ایک دور افتادہ اور طبی طور پر پسماندہ ضلع ہے جہاں کے ملازمین کم سہولیات کے باوجود اپنی ڈیوٹی خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہے ہیں،اجلاس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ ڈی ایچ او واشک ایک ہی وقت میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈی ایچ کیو اور ڈی ایچ او کے دوہرے فرائض سرانجام دے رہا ہے، جو کہ محکمانہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے،ملازمین نے شکایت کی کہ ضلع میں کہیں پر بھی رہائشی سہولیات یا کوارٹرز موجود نہیں، اس کے باوجود عملہ خلوص اور جانفشانی سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے،اخر میں اجلاس کے شرکاء نے ڈویژنل ڈائریکٹر رخشان، ڈپٹی کمشنر واشک، محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور ایم پی اے واشک سے پرزور مطالبہ کیا کہ ڈی ایچ او واشک کو فوری طور پر قواعد و ضوابط کا پابند بنایا جائے اور کٹوتی شدہ تنخواہیں واپس کی جائیں، بصورت دیگر گرینڈ ہیلتھ الائنس اپنے آئینی اور قانونی حق کے تحت ڈی ایچ او کے خلاف شدید احتجاج کا آغاز کرے گا۔

