گوادر:جماعت اسلامی پانی بند، بجلی بند، روزگار بند عوام اذیت میں مبتلا

گوادر (گدروشیا پوائنٹ)ضلع گوادر کے عوام کو مایوسی کی طرف دھکیلنے کی کوشش نہ کی جائے جماعت اسلامی گوادر
گوادر، بلوچستان: جماعت اسلامی مکران ڈویژن سیاسی کمیٹی کے صدر، سعید احمد بلوچ نے اپنے ایک تحریری بیان میں ضلع گوادر کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر کے عوام کو منظم انداز میں بنیادی سہولیات سے محروم کر کے مایوسی اور اضطراب کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “گوادر میں پانی بند، بجلی بند، روزگار کے ذرائع بند، راتوں کا سفر بند، اور سمندر ٹرالر مافیاز کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ عوام اس وقت شدید کسمپرسی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
سعید احمد بلوچ کے مطابق شدید اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث پمپنگ اسٹیشن غیر فعال ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے گھروں میں کئی کئی دنوں سے پانی کی سپلائی معطل ہے۔ دوسری طرف، جب بجلی آتی ہے تو وولٹیج کی شدید اُتار چڑھاؤ سے گھریلو برقی آلات جل رہے ہیں، جس سے عوام کو دوہری پریشانی کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوادر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں پانی کی ترسیل نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ بجلی کی بندش نے بورنگ کے ذریعے پانی کے حصول کو بھی ناممکن بنا دیا ہے۔ یہ تمام مسائل سرکاری اداروں کی ناقص منصوبہ بندی، اربوں روپے کی کرپشن اور احتسابی اداروں کی خاموشی کا نتیجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے جو قحط سالی پیدا ہوئی ہے، اس کے تدارک کے لیے نہ تو کوئی طویل مدتی منصوبہ ہے اور نہ ہی کوئی فوری حل پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سیاسی جماعتوں کو پرامن احتجاج کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ جماعت اسلامی بلوچستان کے لانگ مارچ کو اسلام آباد جانے سے روک دیا گیا، جو آئینی و جمہوری حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ سعید احمد بلوچ نے متنبہ کیا کہ “یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔ حکمران طبقہ ایک انسانی المیہ کو جنم دینے کی پالیسی پر گامزن ہے، جو دراصل قوم اور ریاست سے دشمنی کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ہمیں کرپٹ سرکار کی کمزور یادداشت کا بخوبی علم ہے، مگر ہم سانحہ جیوانی 21 فروری 1987 کو ہرگز نہیں بھولے۔ آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کی بنیادی ضروریات مثلاً پانی، بجلی اور روزگار کو مسلسل بند رکھا گیا تو امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا محال ہو جائے گا۔ سرکاری ادارے ہوش کے ناخن لیں اور عوام کو ریاست سے بیزار کرنے والی پالیسیوں سے گریز کریں