تربت: ردیگ مند میں پاک ایران جوائنٹ بارڈر مارکیٹ کےقیام سے متعلق اہم اجلاس

تربت/مند (گدروشیا پوائنٹ) ردیگ مند میں پاک ایران جوائنٹ بارڈر مارکیٹ کے قیام سے متعلق اہم اجلاس، آئندہ ہفتے سے کاروباری سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز متوقع تفصیلات کے مطابق وہ زیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی ہدایت پرمند ردیگ جوائنٹ بارڈر مارکیٹ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان میر ظہور بلیدی، پارلیمانی سیکریٹری برائے فشریز معتبرحاجی برکت رند، صوبائی پارلیمانی سیکریٹری توانائی میر اصغر رند، وزیر اعلی کے مشیر اسپورٹس و یوتھ افیئرز مینا مجید بلوچ، کمشنر مکران قادر بخش پرکانی، ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ، صوبائی سیکریٹری انڈسٹریز خالد سرپرہ، ڈپٹی ڈائریکٹر انڈسٹریز مکران فہد رحیم بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد جان بلوچ سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔
ایران کی طرف سے سیستان و بلوچستان کے ڈپٹی گورنر ماجد حسنی، ڈپٹی وزیر برائے معدنیات و تجارت مسٹر شریفی، ڈپٹی وزیر برائے اقتصادی امور و رابطہ مسٹر عدیل، اور ڈی جی الیکٹرک ڈسٹری بیوشن مسٹر کمارہ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔
مند ردیگ جوائنٹ بارڈر مارکیٹ جو محکمہ انڈسٹریز اینڈ کامرس کے تحت چلائی جائے گی. کی نگرانی اور انتظامی امور بھی یہی محکمہ انجام دے گا۔ یہ مارکیٹ 18 مئی 2023 کو وزیرِاعظم شہباز شریف اور سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے مشترکہ طور پر افتتاح کی تھی۔ تاہم، کچھ وجوہات کی بنا پر اس وقت تجارتی سرگرمیاں شروع نہ ہو سکیں۔ اب وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے تمام رکاوٹیں دور کر دی ہیں اور مارکیٹ آئندہ ایک ہفتے کے اندر فعال کر دی جائے گی۔ یہاں ہر ہفتے پیر، منگل اور بدھ کو کاروباری سرگرمیاں ہوں گی۔ مارکیٹ میں روزمرہ کی 100 سے زائد اشیاء کی خرید و فروخت ممکن ہوگی جس سے مقامی لوگوں کو روزگار ملے گا، بارڈر ایریاز کی معیشت مستحکم ہوگی اور پاک-ایران تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ ایرانی حکام نے اس منصوبے کو سابق صدر ابراہیم رئیسی کی یادگار قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایران کی جانب سے 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ
اور ڈائریکٹر انڈسٹریز مکران فہد رحیم نے بتایا کہ 2021 سے اس منصوبے پر کام جاری تھا۔ یہ وہ سرحدی علاقے ہیں جنہیں ماضی میں نوگو ایریا قرار دیا گیا تھا۔ ہم نے خود چیدگی، غبد، مند پیشن کا دورے کیئے متعلقہ حکام سے بات کی منصوبے کی نگرانی کی اور وقت پر مکمل کروایا۔ طویل محنت اور کوششوں کے نتیجے میں آج یہ منصوبہ فعال ہو چکا ہے۔ اس کے مثبت اثرات نہ صرف مکران بلکہ پورے بلوچستان پر پڑیں گے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور عوام کو بنیادی اشیاء مناسب نرخوں پر دستیاب ہوں گی۔
اس موقع پر صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ردیگ مند بارڈر مارکیٹ کا قیام بلوچستان کی معاشی سمت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف خطے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور شفاف تجارت کو فروغ ملے گا۔
پارلیمانی سیکریٹری برائے انرجی میر اصغر رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان سرحدی علاقوں کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اور یہ مارکیٹ ان کوششوں کا عملی مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی تجارت سے مقامی سطح پر معیشت میں نئی روح پھونکی جائے گی، جس سے نوجوانوں کو خودکفیل بنانے میں مدد ملے گی۔
مشیر کھیل و امور نوجوانان مینا مجید نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ بارڈر مارکیٹ کا آغاز تاریخی نوعیت کا منصوبہ ہے، جو سرحدی عوام کی زندگیوں میں خوشحالی اور معاشی استحکام لانے کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور نوجوانوں کو اس مارکیٹ سے بھرپور فائدہ ہوگا اور قانونی تجارت کے فروغ سے اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی بھی ممکن ہوگی۔
پارلیمانی سیکریٹری برائے فشریز حاجی برکت رند نے بارڈر مارکیٹ کے جلد آغاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے پاک ایران تعلقات میں عملی بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کی فعالی سے قانونی تجارتی راستے مضبوط ہوں گے، مقامی لوگ باعزت روزگار حاصل کر سکیں گے اور خطے میں ایک نئے معاشی دور کا آغاز ہوگا۔ ماہرین کے مطابق ردیگ مند بارڈر مارکیٹ کا قیام ایک دیرپا اور مؤثر اقتصادی اقدام ہے، جس سے بلوچستان کے سرحدی علاقوں کو معاشی خودمختاری حاصل ہو گی۔
واضح رہے کہ اس مارکیٹ کا افتتاح گزشتہ سال وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور ایران کے سابق صدر ابراہیم رئیسی نے کیا تھا، تاہم بعض سرحدی محصولات اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث یہ منصوبہ مکمل طور پر فعال نہ ہو سکا تھا۔ اب دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی روابط اور تعاون کے نتیجے میں مارکیٹ کو مرحلہ وار طریقے سے مکمل طور پر فعال کیا جا رہا ہے، جو خطے کی ترقی، استحکام اور عوامی خوشحالی کی طرف ایک اہم قدم ہے۔