تربت:جمعیت علماء اسلام تحصیل تمپ کا مشاورتی اجلاس عوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو

تربت( گدروشیا پوائنٹ)گزشتہ روز جمعیت علماء اسلام تحصیل تمپ کے سینئر رہنماؤں کا ایک اہم مشاورتی اجلاس مدرسہ دارالعلوم اسلامیہ بالیچاہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے سینئر اراکین اور ذمے داران نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد علاقے کے سنگین عوامی مسائل کا جائزہ لینا اور ان کے حل کے لیے اجتماعی حکمت عملی ترتیب دینا تھا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ہمارے علاقے کے مسائل اس قدر پیچیدہ اور کثیر الجہت ہو چکے ہیں کہ یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا مسئلہ زیادہ اہم ہے۔ ایسے حالات میں جمعیت علماء اسلام تحصیل تمپ سمجھتی ہے کہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے حل کے لیے مربوط جدوجہد کرنا ہماری دینی و قومی ذمے داری ہے۔
اجلاس میں طویل مشاورت کے بعد درج ذیل اہم مسائل کی نشان دہی کی گئی اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام سے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا
تمپ میں بجلی کی طویل بندش نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ روزانہ 18 سے 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ متعلقہ ادارے کبھی ایران سے وولٹیج کی کمی، کبھی تکنیکی خرابی جیسے جواز پیش کرتے ہیں۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ عوام کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے اور منتخب نمائندے اس مسئلے پر فوری نوٹس لیں۔
ضلع کیچ کے تعلیمی ادارے اساتذہ کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھرتیوں کا عمل جاری ہے، مگر کیچ میں یہ عمل تعطل کا شکار ہے۔ اس سے تعلیم کا نظام بُری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ بھرتیوں کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے۔
بالیچاہ تا منداور اور رودبن تا گومازی روڈ سمیت متعدد سڑکیں انتہائی خراب حالت میں ہیں۔ ہر سال بجٹ میں ان کا ذکر ہوتا ہے مگر عملی کام نہیں کیا جاتا۔ یہ عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔
یونین کونسلز اور میونسپل کمیٹیوں کو ملنے والے فنڈز کا غلط استعمال عام ہو چکا ہے۔ مثال کے طور پر 16 لاکھ روپے کے فنڈ کے بدلے صرف 13 سولر پلیٹس دی گئیں جن کی قیمت بمشکل 3 لاکھ روپے ہے۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کیچ سے مطالبہ کیا گیا کہ اس بدعنوانی کی تحقیقات کی جائیں اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔
آر ایچ سی تمپ سمیت دیگر مراکزِ صحت میں طبی عملے اور ادویات کی شدید کمی ہے۔ عوام کو بنیادی طبی سہولیات میسر نہیں۔ محکمہ صحت سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر ڈاکٹرز اور طبی عملہ تعینات کیا جائے۔
تمپ کا واحد نادرا سینٹر نذر آتش ہونے کے بعد تاحال بند ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اجلاس میں نادرا سینٹر کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔
بینک ڈکیتیوں کے واقعات کے باعث کئی بینکوں نے تمپ میں اپنی خدمات محدود کر دی ہیں یا بند کر دی ہیں۔ اجلاس میں بینکوں کو مؤثر سیکیورٹی فراہم کرنے اور خدمات کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔
منشیات کی کھلی دستیابی نے نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اجلاس میں انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کی جائے۔
اجلاس کے اختتام پر ڈیجیٹل میڈیا سیل کے کوآرڈینیٹر محمد عبداللہ پھل آبادی نے میڈیا کو اجلاس کی تفصیلات فراہم کیں