تربت(گدروشیا پوائنٹ) علاقے ملک آباد کی ہر دلعزیز اور عظیم شخصیت، معلمِ قرآن اور استادوں کے استاد حافظ علی محمد بلوچ کی نمازِ جنازہ ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں ادا کی گئی۔ جس کے بعد انہیں ملک آباد کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اس موقع پر فضا سوگوار تھی۔ ہر دل غمزدہ اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔ انکی وفات نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے علاقے کیلئے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ مرحوم حافظ علی محمد بلوچ، ایم ایم ڈی محکمہ کے حافظ عبدالقیوم بلوچ، سیشن کورٹ کے حافظ عبدالخالق بلوچ، پروفیسر مفتی حافظ عبدالباقی بلوچ اور مولانا عبدالمالک بلوچ کے والد محترم تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ ان کے صاحبزادے مولانا عبدالمالک بلوچ نے پڑھائی۔
واضح رہے کہ ہزاروں افراد نے حافظ علی محمد سے قرآنِ پاک کی ابتدائی تعلیم حاصل کی جن میں بے شمار حافظِ قرآن اور عالم شامل ہیں۔ وہ ایک جیتا جاگتا دینی ادارہ تھے۔ ان کی تعلیم، تربیت، اخلاق، اور کردار سے متاثر ہو کر ہزاروں شاگرد دینی و اخلاقی میدان میں نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔ وہ آج دینی درسگاہوں، مساجد، مدارس اور معاشرے میں مختلف کرداروں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی تعلیمات، اخلاق، نرم مزاجی اور دعا گو شخصیت آج بھی ان کے ہزاروں شاگردوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
مرحوم نہایت شفیق، بے ضرر، ملنسار، مطمئن اور سادہ طبعیت کے مالک تھے۔ دنیاوی آسائشوں سے بے نیاز، قناعت پسند اور زہد و تقویٰ کی اعلیٰ مثال تھے۔ ایسے اوصاف شاید ہی کسی ایک شخصیت میں یکجا ہوں۔
گدروشیا پوائنٹ کی پوری ٹیم، بطور میڈیا ادارہ، ان کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے اور ملک آباد کی حافظ برادری سے تعزیت پیش کرتی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

