تربت (نمائندہ: گدروشیا پوائنٹ) مکران کوچز اور ٹرانسپورٹ یونین کے نائب صدر رفیق قاضی نے گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے ٹرانسپورٹ سے متعلق حکومتی و ضلعی انتظامیہ کی نئی ہدایات، خصوصاً بسوں میں گارڈ تعینات کرنے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک تحریری درخواست پیش کی۔
رفیق قاضی نے ڈپٹی کمشنر کو بتایا کہ ٹرانسپورٹ مالکان کو بعض خدشات لاحق ہیں کیونکہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے ہدایت دی ہے کہ ہر مسافر کوچ میں دو، دو گارڈ تعینات کیئے جائیں۔ ان احکامات پر عملدرآمد کیلئے ٹرانسپورٹ مالکان نے مختلف پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں سے رابطہ کیاہے لیکن بلوچستان کی سیکیورٹی صورتِحال کے باعث ان کمپنیوں نے گارڈ فراہم کرنے سے معذرت کر لی ہےکیونکہ اُن کے تمام اہلکار غیر مقامی ہیں۔
نائب صدر یونین نے کہا کہ اس صورتحال میں ٹرانسپورٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر گارڈز تعینات کرنا ضروری ہے تو گزارش ہے کہ حکومت، ضلعی انتظامیہ ٹرانسپورٹرز کو پولیس یا لیویز اہلکار بطور گارڈ فراہم کرے۔ رفیق قاضی نے مزید بتایا کہ ضلع میں چلنے والی مسافر کوچز کی تعداد 200 سے زائد ہے جس کیلئے تقریباً 400 سرکاری اہلکار درکار ہوں گے۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ تمام کوچز میں پہلے ہی سے سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں جبکہ کچھ گاڑیوں میں GPS سسٹم بھی فعال ہے اور باقی میں بھی تنصیب کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو یہ بھی بتایا کہ کراچی کے یوسف گوٹھ ٹرمینل سے نکلنے والی مسافر کوچز کیلئے تلار چیک پوسٹ پر شام 7 بجے تک پہنچنے کی پابندی عائد کی گئی ہے جس سے مزید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوچز میں خواتین، بچے اور بزرگ مسافر بھی ہوتے ہیں اور راستے میں کئی بار مختلف مجبوریوں کی بنا پر رکنا پڑتا ہے۔ اس لئے گزارش ہے کہ تلار چیک پوسٹ پر پہنچنے کی آخری مہلت رات 9 بجے تک مقرر کی جائے تاکہ گاڑی مالکان اور مسافروں کو سہولت ہو۔ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے درخواست وصول کرنے کے بعد کہا کہ حکومت اور بحیثیت انتظامیہ مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو درپیش مشکلات کا بخوبی احساس ہے تاہم مسافروں کی جان اور ٹرانسپورٹرز کے مال کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق تمام گاڑیوں میں سی سی ٹی وی کیمرے فعال ہونے چاہییں اور GPS نظام نصب ہونا ضروری ہے۔ گارڈز کی تعیناتی کے معاملے پر متعلقہ حکام سے مشاورت کر کے متبادل حل نکالا جائے گا۔

