تربت(گدروشیا پوائنٹ) ایس ایس پی کیچ کیپٹن (ریٹائرڈ) ذوہیب محسن نے پولیس کی حالیہ کامیاب کارروائیوں پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ تربت شہر اور نواحی علاقوں میں جرائم کی روک تھام کے لیے پیٹرولنگ میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں شہر کے اندر جرائم میں واضح کمی آئی ہے، تاہم شہر کے مضافاتی علاقوں جیسے جوسک، سنگانی سر اور شاہ سر میں چوری کی وارداتوں میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ ایس ایس پی کیچ نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں لیڈیز مارکیٹ کی پانچ دکانوں کو چوری کا نشانہ بنایا گیا جہاں سے تقریباً چھ لاکھ روپے مالیت کا سامان چوری کیا گیا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے عبدالباسط ولد خدابخش سکنہ بلیدہ کو گرفتار کر کے چوری شدہ سامان برآمد کر لیا ہے۔ اس کیس میں مزید دو افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جن کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ اس موقع پر ڈی ایس پی کیچ نزیر احمد، ایس ایچ او تھانہ تربت شیرجان دشتی اور ایڈیشنل ایس ایچ او تربت حسین جان دشتی موجود تھے۔ جبکہ انجمن تاجران اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی موجود تھے
انہوں نے کہا کہ یہ گروہ بلیدہ سے منشیات تربت لا کر فروخت کرتا تھا اور واپسی پر موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں ملوث تھا۔ پولیس کے مطابق عبدالجبار ولد رمضان سکنہ کوشقلات اور عقیق عرف “ساحر” اس نیٹ ورک میں شامل ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے ملزمان کے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیس کے حوالے کریں تاکہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ ایس ایس پی کیچ نے بتایا کہ پولیس نے اب تک 17 چوری شدہ موٹر سائیکلیں برآمد کی ہیں جو مختلف علاقوں بشمول چاہ سر، آبسر اور تربت شہر سے چوری کی گئی تھیں۔ ان کارروائیوں میں انٹیلیجنس ایجنسیوں کا بھی بھرپور تعاون شامل رہا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی علاقے میں کوئی واردات ہو تو فوری طور پر قریبی پولیس تھانے میں رپورٹ درج کرائیں۔ تھانوں میں ڈی ایس پی، ایس ایچ او اور ایڈیشنل ایس ایچ او ہر وقت موجود ہیں، اور شہری خود بھی براہ راست ایس ایس پی آفس میں آ کر شکایت کر سکتے ہیں۔ آخر میں ایس ایس پی ذوہیب محسن نے کہا کہ پولیس عوام کے تعاون سے تربت کو ایک پُرامن اور محفوظ شہر بنائے گی۔

