دالبندین ( گدروشیا پوائنٹ محمد بخش بلوچ ) راجے گذر کی مسلسل بندش کاروباری حلقوں نے سخت احتجاج کیلئے کمر کس لی احتجاج کی دھمکی پاک ایران سے متصل راجے گذر کی بندش سے لاکھوں افراد بے روزگار گھروں میں فاقے کی صورتحال دالبندین کے سینکڑوں تیل منڈیاں ویرانی کا منظر پیش کرنے ریے ہیں اسرائیل اور ایران کی کشیدہ صورتحال کے سبب پاک ایران سے متصل مختلف پوائنٹس کو بند کردیا گیا تھا مگر صورتحال بہتر ہونے کے بعد اکثر پوائنٹس دوبارہ کاروبار اور آمد و رفت کیلئے کھول دیئے گئے تھے راجے گذر ایک ایسا پوائنٹ ہے جہاں سے ایرانی تیل کے کاروبار سے ہزاروں افراد منسلک ہے راجے گذر پوائنٹ کی مسلسل بندش نے علاقے کے لوگوں کو نان شبینہ کا محتاج بنا کر رکھ دیا ہے لوگوں کے گھروں میں فاقے پڑھ چکے ہیں سرحد کے دونوں اطراف میں رہنے والے لوگوں کا ذریعہ معاش بارڈر کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور علاقے کے لوگ یہی سے اپنا گذر بسر کرتے ہیں ایرانی تیل کے کاروبار سے صرف چند ہزار زمبیاد ڈرائیورز یا انکے مالک روزی روٹی نہیں کماتے بلکہ لاکھوں افراد اس کاروبار کے وجہ سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں حکام بالا سرحدی علاقوں کے لوگوں کے مشکلات کو مدنظر رکھ کر بارڈر کے کاروبار کو کھول کو لوگوں کی بے چینی کو ختم کر دیں تاکہ بارڈر کے لوگ بآسانی دوبارہ اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں

