ٹیچنگ اسپتال میں 13 ڈاکٹر غیرحاضر، تادیبی کارروائی کا اعلان، دورہ کے موقع پر میر ظہور بلیدی کی میڈیا نمائندوں سے گفتگو

تربت (نمائندگان: گدروشیا پوائنٹ) بلوچستان کے صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے پیر کے روز تربت ٹیچنگ اسپتال کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایمرجنسی سمیت مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا۔ دورے کے دوران اسپتال میں 13 ڈاکٹرز کو ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا گیا جس پر صوبائی وزیر نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا۔ صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غیر حاضر ڈاکٹروں کے نام وزیر اعلیٰ بلوچستان اور وزیر صحت کو معطلی کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اور غیرحاضر عملے کے خلاف تادیبی اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس موقع پر اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر وحید بلیدی، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کیچ کے صدر ڈاکٹر میران دشتی، اور سینئر گائناکالوجسٹ ڈاکٹر فوزیہ بلوچ بھی وزیر موصوف کے ہمراہ تھے۔
دورے کے دوران میر ظہور احمد بلیدی نے اسپتال میں قائم بےنظیر نشوونما پروگرام ضلع کیچ کے دفتر کا بھی دورہ کیا۔ جہاں ان کا استقبال آفس اور انچارج اور رجسٹریشن اینڈ کمپلین آفیسر ہماء بلوچ نے کیا اور انہیں پروگرام کی سرگرمیوں سے متعلق بریفنگ دی۔
بریفنگ میں ہما بلوچ نے بتایا کہ پروگرام کا مقصد غذائی قلت کا خاتمہ اور ماں و بچے کی صحت میں بہتری لانا ہے۔ پروگرام کے تحت حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہو رہی ہیں انکو وظیفہ بھی دیا جاتا ہے جبکہ 6 سے 23 ماہ کی عمر کے بچوں کو مفت متوازن غذا فراہم کی جاتی ہے۔
صوبائی وزیر نے بےنظیر نشوونما ضلعی مرکز کے عملے کی کارکردگی کو سراہا اور منصوبے کو عوامی فلاح کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ دورے کے موقع پر سماجی شخصیت سراج اکبر بلیدی، ٹھیکیدار غلام قادر بلوچ، محمد امین اور دیگر افراد بھی انکے ہمراہ تھے۔