تربت(گدروشیا پوائنٹ)سردار اختر جان مینگل کو کوئٹہ ایئرپورٹ پر بیرونِ ملک سفر سے روکنا اور ان کا نام پروویژنل نیشنل آئیڈنٹیفکیشن لسٹ (PNIL) میں شامل کرنا ایک ایسا اقدام ہے جسے صرف انتظامی فیصلہ قرار دینا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر عبدالغفور رکن مرکزی کمیٹی بلوچستان نیشنل پارٹی نے مزید کہا کہ یہ عمل محض ایک فرد کے خلاف نہیں، بلکہ اس سوچ کے خلاف ہے جو آئین، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کی بات کرتی ہے۔
یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ سردار اختر مینگل ان رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے ہر سطح پر ریاستی جبر، ناانصافیوں اور سیاسی مظالم کے خلاف نہ صرف آواز بلند کی بلکہ اس مؤقف پر ثابت قدم بھی رہے۔ ان کی سیاسی جدوجہد پاکستان کے آئینی ڈھانچے اور وفاقی جمہوری نظام کے تحفظ سے جڑی ہوئی ہے۔ ایسے میں ان پر غیر قانونی سفری پابندی ایک واضح پیغام ہے کہ اصولوں پر ڈٹنے کی قیمت آج بھی چکانا پڑتی ہے۔
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 15 ہر شہری کو آزادی سے نقل و حرکت کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 17 سیاسی وابستگی اور سرگرمیوں کی آزادی کا ضامن ہے، اور آرٹیکل 19 اظہارِ رائے کی آزادی کو یقینی بناتا ہے۔ سردار اختر مینگل جیسے سینئر سیاسی رہنما کو، بغیر کسی عدالتی حکم یا شفاف قانونی جواز کے، ان حقوق سے محروم کرنا نہ صرف ان کی تضحیک ہے بلکہ آئینِ پاکستان کی روح کے بھی منافی ہے۔
یہ اقدام بین الاقوامی انسانی حقوق کے ان معیارات کی بھی نفی کرتا ہے جن پر پاکستان نے دستخط کیے ہیں، بالخصوص بین الاقوامی شہری و سیاسی حقوق کے معاہدے (ICCPR) کا آرٹیکل 12، جو ہر فرد کو ملک چھوڑنے اور واپسی کا حق دیتا ہے۔
ریاستی اداروں کے لیے لازم ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی اور آئینی تقاضوں کا احترام کریں۔ اگر سیاسی قیادت کو محض اختلافِ رائے کی بنیاد پر نشانہ بنایا جائے گا، تو یہ جمہوری عمل کی کمزوری کا اعلان ہوگا، نہ کہ طاقت کا مظہر۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سردار اختر مینگل کا نام PNIL سے فوری طور پر خارج کیا جائے، ان پر عائد سفری پابندی کو ختم کیا جائے، اور اس فیصلے کی شفاف قانونی وضاحت عوام کے سامنے رکھی جائے۔ کیونکہ اگر آج ایک آواز دبائی گئی، تو کل بہت سی آوازیں خاموش ہو جائیں گی—اور جمہوریت، صرف نام کی رہ جائے گی۔

