وزیراعلیٰ سے مکالمے کی وائرل ویڈیو پر، کلائمٹ ایکٹیوسٹ نفیسہ بلوچ نے سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں کی وضاحت پیش کردی۔

وزیراعلیٰ سے مکالمے کی وائرل ویڈیو پر، کلائمٹ ایکٹیوسٹ نفیسہ بلوچ نے سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں کی وضاحت پیش کردی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے دورہ گوادر کے دوران ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ گوادر کی نوجوان سماجی کارکن نفیسہ بلوچ نے وزیراعلیٰ سے شکوہ کیا، تو وزیراعلیٰ نے نہ صرف شفقت سے اس کا سر تھپتھپایا بلکہ اپنی نشست پر بٹھایا اور اس کی تعلیم کے تمام اخراجات اٹھانے کا وعدہ کیا۔

اس بیان پر نفیسہ بلوچ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی کہانی حقیقت سے ہٹ کر ہے۔نفیسہ بلوچ کے مطابق وہ گوادر میں ہونے والے کلی کچری میں شریک تھیں اور تین گھنٹے تک وزیراعلیٰ کی آمد کا انتظار کرتی رہیں۔ جب سوالات کا وقت آیا تو صرف چند افراد کو بولنے کا موقع ملا اور ان کے سوالات کے بھی مکمل جواب نہیں دیے گئے۔

نفیسہ بلوچ کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے بولنے کا موقع نہیں دیا گیا، جس پر انہوں نے نیچے کھڑے ہوکر احتجاج کیا۔ ان کے احتجاج پر وزیراعلیٰ نے انہیں مائیک دینے کی ہدایت کی اور سٹیج پر بلا کر بات سننے کی دعوت دی۔

اس موقع پر نفیسہ بلوچ نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ وہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایک کلائمیٹ ایکٹیوسٹ ہیں جنہوں نے COP27، COP28، COP29 اور UN واٹر کانفرنسز میں عالمی سطح پر بلوچستان کی نمائندگی کی ہے۔ ساتھ ہی وہ مقامی سطح پر ایک ادارہ بھی چلا رہی ہیں۔

انہوں نے وزیراعلیٰ سے سوال کیا کہ اگر حکومت نوجوانوں کی عملی مدد نہیں کر سکتی تو کم از کم انہیں واضح طور پر بتایا جائے تاکہ وہ غیر ضروری امیدیں نہ رکھیں۔

مزید گفتگو کے دوران نفیسہ بلوچ نے حالیہ طوفانی بارشوں اور میرین ڈرائیو کی دو سڑکوں کی ناقص منصوبہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان دو سڑکوں کی وجہ سے گوادر میں شدید تباہی دیکھنے کو ملی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ شہر کی ہر گلی میں روڈز بن رہے ہیں، لیکن اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو صرف پچاس ملی میٹر بارش بھی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور حکومت کو اس پر فوری توجہ دینی چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بڑی آفت سے بچا جا سکے

نفیسہ بلوچ نے واضح الفاظ میں کہا کہ انہوں نے نہ تو تعلیمی اخراجات کا کوئی ذکر کیا اور نہ ہی مالی مدد مانگی۔ مان کا کہنا تھا کہ وہ ماضی میں بلاول بھٹو اور شہباز شریف جیسے رہنماؤں سے بھی مل چکی ہیں، جہاں کئی وعدے کیے گئے، مگر پورے نہیں ہوئے۔ اس لیے اب وہ محض وعدوں سے متاثر نہیں ہوتیں۔

آخر میں انہوں نے لوگوں سے اپیل اس طرح کی باتیں میرے بارے میں نہیں کہیں جس سے میری زندگی ذہنی طور پر یا معاشرے میں متاثر ہوں۔ میرے قوم نے ہر وقت میرا ساتھ دیا ہے اور عزت دی ہے جس کی وجہ سے اپنی لوگوں کیلئے کام کروں کم ہے۔ میں امید کرتی ہو اسطرح ہر وقت حوصلہ افزائی کریں گے

آخر میں نفیسہ بلوچ نے عوام سے اپیل کی کہ ان کے بارے میں ایسی باتیں نہ کی جائیں جو ان کی ذاتی یا معاشرتی زندگی کو ذہنی دباؤ میں ڈالیں۔انہوں نے کہامیری قوم نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے، عزت دی ہے، یہی وجہ ہے کہ میں اپنی قوم اور لوگوں کے لیے کام کرتی ہوں اور کرتی رہوں گی۔ میں امید رکھتی ہوں کہ آئندہ بھی مجھے اسی طرح عزت، اعتماد اور حوصلہ افزائی ملتی رہے گی، تاکہ میں اپنے مشن کو مزید مضبوطی سے آگے بڑھا سکوں۔