وزیراعلی بلوچستان کا گوادر کا دورہ، جرگہ منعقد اور ڈیجیٹل لائبریری کا افتتاح

گوادر (گدروشیا پوائنٹ) وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر 12 کور بلوچستان نے گوادر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے عوامی جرگے سے خطاب کیا اور شہریوں کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد کیا۔ جرگے میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وزیرِاعلیٰ نے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے منفی اور ملک دشمن پروپیگنڈے سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی سازشیں ملک کی سلامتی اور معیشت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں، اور عوام کو ایسے منفی عناصر کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیئے۔دورے کے دوران وزیرِاعلیٰ نے گوادر کی پہلی جدید ترین ڈیجیٹل لائبریری کا افتتاح بھی کیا۔ اس موقع پر اعلیٰ عسکری اور سول حکام بھی موجود تھے وزیرِاعلیٰ نے لائبریری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو فرد، معاشرے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں علم ہی سلامتی، ترقی اور کامیابی کی ضمانت ہے. وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوادر جیسے اہم اور اسٹریٹجک ضلع میں اس جدید ڈیجیٹل لائبریری کا قیام ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ منصوبہ مخیر حضرات کے تعاون سے مکمل ہوا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جب عوام، سول سوسائٹی اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ مقصد کے تحت متحد ہوں تو ترقی کا نیا باب رقم کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت ہر ضلع سے 20 ہونہار طلبہ (10 لڑکے اور 10 لڑکیاں) کے 16 سالہ تعلیمی اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ حکومت میرٹ کی بنیاد پر پی ایچ ڈی اسکالرشپس بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ بلوچستان کے نوجوان دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں سائنسی شعبوں میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم اور صحت میں پہلی بار مکمل میرٹ پر بھرتیاں کی گئیں اور گزشتہ ایک سال کے دوران 3200 سے زائد بند اسکول دوبارہ فعال کیے گئے ہیں۔ کئی طبی مراکز میں پہلی بار ڈاکٹرز تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے کیونکہ اس کی ترقی نہ صرف صوبے بلکہ ملک کی معیشت کے لیے بھی اہم ہے۔ ہمیں گوادر کے ان نوجوانوں پر فخر ہے جنہوں نے سی ایس ایس اور پی سی ایس جیسے مشکل امتحانات میں کامیابی حاصل کرکے بلوچستان کا نام روشن کیا۔
وزیراعلیٰ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تعلیم، ہنر، امن اور ترقی کی راہ اپنائیں کیونکہ بدقسمتی سے کچھ گمراہ عناصر نوجوانوں کو انتہا پسندی اور تباہی کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ ترقی کی راہ اختیار کرتے ہیں یا گمراہی کا راستہ۔ حکومت ہر اُس نوجوان کے ساتھ کھڑی ہوگی جو علم، شعور اور امن کا انتخاب کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ گوادر کے طلبہ کو لیپ ٹاپ اور مقابلے کے امتحانات کی تیاری کے لیے کتابیں فراہم کی جائیں گی اور دیگر اضلاع میں بھی اسی طرز کی لائبریریاں قائم کی جائیں گی تاکہ مطالعہ اور تحقیق کا کلچر فروغ پا سکے۔
تقریب میں بتایا گیا کہ ظہور شاہ ہاشمی ڈیجیٹل لائبریری ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمن کی قیادت میں مختلف مخیر اداروں کے تعاون سے تقریباً چھ کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوئی۔ لائبریری میں اس وقت تین لاکھ سے زائد ڈیجیٹلائزڈ کتب موجود ہیں جبکہ ہزاروں چھپی ہوئی کتابیں بھی مطالعے کے لیے دستیاب ہیں۔ خواتین، بچوں، بزرگوں اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے لیے علیحدہ علیحدہ ہالز قائم کیے گئے ہیں۔ عمارت مکمل ایئرکنڈیشنڈ ہے اور 24 گھنٹے بجلی کی سہولت کے لیے سولر سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ مختلف ہالز کو اہم قومی شخصیات کے ناموں سے منسوب کیا گیا ہے جن میں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے والد میر غلام قادر بگٹی، چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ اور دیگر مقررین نے ڈپٹی کمشنر حمود الرحمن اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ دیگر اضلاع میں بھی ایسے منصوبے شروع کیے جائیں گے تاکہ بلوچستان کو ایک علمی، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرہ بنایا جا سکے۔
بعد میں سی ایم میر سرفراز بگٹی نے گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے گورننگ باڈی اجلاس کی صدارت بھی کی۔ اجلاس میں شہر کی ترقی، منصوبوں پر پیشرفت اور عوامی بہبود کے امور زیرِ غور آئے۔
دورے کے موقع پر کور کمانڈر بلوچستان ، ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمان ،چیف سیکرٹری بلوچستان، ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمن رانجھا اور دیگر افسران اور پیپلزپارٹی کے رہنما موجود تھے