کوئٹہ(گدروشیاپوائنٹ) بلوچستان بھر میں محکمہ ای پی آئی توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات سے وابستہ ویکسینٹرز نے اپنے دیرینہ مطالبات کی منظوری کے لیے سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج ریکارڈ کیا۔ احتجاج کا مقصد حکومت کی توجہ ان کے بنیادی حقوق اور واجبات کی عدم ادائیگی پر مبذول کرانا تھا۔ ویکسینٹرز نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، صوبہ بھر میں احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا۔ صوبائی کال پر خضدار، سبی، لورالائی، مستونگ، پنجگور، نصیرآباد، قلعہ عبداللہ، پشین، ژوب، چمن، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، آواران، واشک، کیچ، گوادر، موسیٰ خیل، قلعہ سیف اللہ، ہرنائی، بارکھان، قلات، دکی، زیارت، اوستہ محمد، جعفرآباد اور نوشکی سمیت بلوچستان کے دیگر تمام اضلاع میں احتجاج کیا گیا۔ ویکسینٹرز نے ہاتھوں میں سیاہ پٹیاں باندھ کر اپنے مطالبات کے حق میں پرجوش نعرے بازی کی اور حکام بالا سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ آل بلوچستان گورنمنٹ ویکسینٹرز کے عہدیداروں نے اپنے مطالبات کو پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ اپ گریڈیشن ہمیں دیگر صوبوں کے ویکسینٹرز کی طرز پر فوری طور پر اپ گریڈ کیا جائے۔ این ای آئی آر موبائل پیکیج، ایک سال سے بقایا آؤٹ ریچ ٹیم، بگ کیچ اپ اور فیول کی مد میں تمام واجبات فوری ادا کیے جائیں۔ سروس سٹرکچر اور مستقل مراعات کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ جون کے مہینے میں بلوچستان بھر میں شدید گرمی ہے، درجہ حرارت 47 سے 52 سینٹی گریڈ تک پہنچ رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں بگ کیچ اپ کا تیسرا راؤنڈ فوری طور پر منسوخ کیا جائے تاکہ بچوں اور ویکسینٹرز دونوں کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ احتجاجی ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ صحت کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن حکومت ان کے مسائل کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وہ مزید دباؤ کے لیے تیار ہیں اور اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاجی دائرہ مزید بڑھایا جائے گا۔ آل بلوچستان گورنمنٹ ویکسینٹرز الائنس کے نمائندوں نے کہا ہے کہ آئندہ کے لائحہ عمل میں دفاتر کا مکمل بائیکاٹ، ریلیاں، جلسے اور ممکنہ طور پر صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنے بھی دیئے جائیں گے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ مطالبات کی منظوری تک ہمارا احتجاج غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔ اگر ہمارے صبر کا امتحان لیا گیا تو سخت اقدامات سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ جبک محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تاحال کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس پر ویکسینٹرز نے گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ویکسینٹرز کا کہنا ہے کہ حکام کی یہ خاموشی ان کے مسائل کے تئیں عدم دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔

