گوادر(گدروشیا پوائنٹ، نمائندہ: عبیداللہ بلوچ) گوادر فشریز ڈیپارٹمنٹ نااہل اور مائی گیروں کو آپس میں دست و گریباں کرنا چاہتی ہے غیر قانونی ٹرالنگ سے سمندر بانجھ ، آبی حیات کی نسل کشی اور مائی گیر نان شبینہ کا محتاج بن گئے ہیں ۔ فشریز آرڈینس کے مطابق غیر قانونی ٹرالنگ کا خاتمہ کیاجائے وائرنٹ جال کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔اگر ایسا نہیں کیا گیا تو گوادر سمیت ضلع بھر کے مائی گیر محکمہ فشریز کے خلاف سراپائے احتجاج ہوں گے ان خیالات کا اظہار زر ماہگیر اتحاد کے راہنماؤں ناصر رسول بخش ، ساجد امیتان ۔ قادر بخش ۔ امجد پیر بخش۔ ناکہدہ ابوالحسن۔ ناکہدہ الہی بخش و دیگر نے گوادر پریس کلب میں منعقدہ پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ فشریز ڈیپارٹمنٹ ایک نااہل ادارہ بن گیا ہے گوادرکے ساحل پر غیر قانونی ٹرالنگ اور وائرنٹ کے استعمال سے سمندر بانجھ بن گیا اور آبی حیات کی نسل ہورہی ہے انھوں نے فشریز ڈیپارٹمنٹ کی مبینہ نااہلی اور غیر قانونی ٹرالنگ و وائرنٹ (گجہ) جال کے بڑھتے ہوئے استعمال پر اپنی شدیدتحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ وائرنٹ جال پر مکمل پابندی عائد ہے اور اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر گوادر کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی اجراء کیا گیا ہے، مگر اس کے باوجود بعض بااثر ماہیگیر بدستور اس مہلک جال کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ فشریز ڈیپارٹمنٹ نے چند کشتیوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا، لیکن کسی قسم کی قانونی کاروائی کے بغیر انہیں چھوڑ دیا گیا، جو متعلقہ اداروں کی رٹ اور نوٹیفکیشن کی حیثیت پر سوالیہ نشان ہے۔ اس حوالے سے ماہیگیر برادری نے خود تعاون کی پیشکش کی ہے۔ اس کے باوجود ٹرالنگ کرنے والے عناصر کے خلاف کوئی مؤثر کاروائی نہیں کی جارہی. انھوں نے مطالبہ کیا گیا کہ وائرنٹ اور ٹرالنگ کے خلاف فوری اور سخت کاروائی کی جائے، فشریز ڈیپارٹمنٹ کو فعال اور جوابدہ بنایا جائے اور اس کے وسائل کا آڈٹ کیا جائے، خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمات درج کیئے جائیں اور ان کی کشتیاں و جال ضبط کیے جائیں، ماہیگیر برادری کو اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔ ماہیگیر رہنماؤں نے فشریز ڈیپارٹمنٹ، پارلیمانی سیکرٹری اور اسٹینڈنگ کمیٹی برائے فشریز کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر وارنٹ جال استعمال کرنے والے گنتی کے 8 مائی گیر ہیں لیکن دوسری طرف ہزاروں مائی گیر ہیں جو وائرنٹ جالوں کے استعمال خلاف ہیں لیکن اس کے باوجود فشریز ڈیپارٹمنٹ ان کو روکنے میں ناکام رہی ہے ۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ وارنٹ اور ٹرالنگ کے خلاف موثر اور فوری کارروائی کی جائے ، ڈیپارٹمنٹ کو فعال بنا کر ان کے وسائل کا آڈٹ کیا جائے ، خلاف ورزی کرنے والوں کے مقدمات درج کیے جائیں اور ان کی جال بمعہ کشتیوں کو ضبط کیا جائے ، مائی گیر برادری کو اعتماد میں لیکر مشترکہ نگرانی کا نظام قائم کیا جائے ، حالیہ سمندری طوفان کے باعث مائی گیروں کو ہونے والی نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور صاف شفاف طریقے سے مائی گیر تنظیموں کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دیکر سروے کرکے متاثرین کی امداد کی جائے انھوں صوبائی حکومت اور جی او سی سے اپیل کی گئی کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں تاکہ سمندری حیات کا تحفظ ممکن ہو اور ماہیگیر برادری کے روزگار کا تحفظ مل سکے ۔انھوں نے کہا کہ مائی گیر اپنے روزگار کے تحفظ کے لیے قانونی کاروائی کے لیے عدالتوں کا بھی دروازہ کٹھکٹائیں گے ۔

