تربت(گدروشیا پوائنٹ) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما میر فدا حکیم رند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رکن صوبائی اسمبلی میر زاہد ریکی نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان کے حوالے سے جو مؤقف پیش کرکے محکمہ اسپورٹس اور یوتھ بلوچستان میں غضب کرپشن کی “عجب کہانی” کی پول کھل دی ہے. وہ بالکل درست اور حقائق پر مبنی ہے۔ میں ان کے مؤقف کی مکمل تائید کرتا ہوں، کیونکہ اس محکمے میں بدعنوانی کھلے عام ہو رہی ہے اور سالانہ کروڑوں روپے کے فنڈز کا کوئی حساب کتاب موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان کو ہر سال تقریباً 30 کروڑ روپے فراہم کیے جاتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ کھیلوں کے میدان ویران پڑے ہیں، کھلاڑی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، اور فنڈز کے استعمال کا کوئی ریکارڈ عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا۔ یہ صورت حال نہایت تشویش ناک ہے اور اس پر فوری طور پر مؤثر اقدام ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی مشیر کھیل و امورِ نوجوانان صرف ذاتی مفادات تک محدود ہیں۔ ڈیڑھ سال گزر جانے کے باوجود وہ اپنے حلقے میں کوئی نمایاں کارکردگی دکھانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں وہ ایک فٹبال یا کاک بال تک کسی کھلاڑی کو فراہم نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ جب مند سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو وزیر کھیل کا قلمدان سونپا گیا تو مکران، بالخصوص مند کے نوجوانوں اور کھلاڑیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ اب علاقے میں کھیلوں کی تقدیر بدلے گی، لیکن افسوس کہ کھیلوں کے لیے مختص 30 کروڑ روپے کی خطیر رقم کہاں خرچ ہوئی، اس کا کوئی علم نہیں، اور نہ ہی کوئی پوچھنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ذاتی وسائل سے ہر سال مند میں اسپورٹس اور ادبی پروگرامز کے دو بڑے ایونٹس منعقد کرتا ہوں۔ ان میں کھیلوں کے مقابلے بھی شامل ہوتے ہیں، جبکہ بلوچ کلاسیکل شاعر کی یاد میں ادبی و میوزیکل محفلوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہم اپنے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے خود اقدامات کر رہے ہیں، کیونکہ محکمہ کھیل کی طرف سے کسی قسم کی عملی مدد فراہم نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان شاء اللہ بہت جلد آل بلوچستان فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد مند جیسے پسماندہ علاقے میں کریں گے۔ آخر میں میر فدا حکیم رند نے کہا کہ ہم بارہا احتجاج اور درخواستیں کر چکے ہیں کہ اسپورٹس کے لیے مختص کروڑوں روپے کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟ کون لوگ ہیں جو کھیل کے میدانوں کو ویران کر کے نوجوانوں کو منشیات اور جرائم کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں؟ مگر افسوس کہ کسی نے توجہ دینا گوارا نہ کیا۔ اب جبکہ بلوچستان اسمبلی کے فلور پر اس محکمے کی بدعنوانیوں پر آوازیں بلند ہو رہی ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان کے فنڈز کا شفاف آڈٹ کیا جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے نوجوان باصلاحیت ہیں، مگر مواقع نہ ملنے کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ہیں، اور اس کا براہ راست ذمہ دار محکمہ کھیل ہے۔

