احتجاج اور مزاحمت کی نوعیت میں فرق
تحریر: نذیر بلوچ،وائس چیئرمین بی ایس او
بی این پی نے دھرنا ختم کر کے قوم کو دھوکا نہیں دیا۔
بلوچستان میں سیاسی بے یقینی ایک حقیقت ہے اور بعض حلقوں کو یہ فیصلہ وقتی طور پر غیرموزوں محسوس ہو سکتا ہے، مگر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ احتجاج کی نوعیت اور ہوتی ہے جبکہ مزاحمت کی صورت گری کچھ اور۔
بی این پی نے یہ فیصلہ زمینی حقائق اور سیاسی تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا، اور اسی فہم کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تحریک کو اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے حکمتِ عملی میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔
عوامی تھکن ایک سیاسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ جو لوگ احتجاجی سیاست کے مزاج سے آشنا ہیں، وہ جانتے ہیں کہ عوام ہمہ وقت ایک ہی انداز کے احتجاج کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جب کسی سیاسی قیادت کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ آیا اب ٹکراؤ کی راہ اپنائی جائے یا وقتی طور پر تدبر اور حکمت کے تحت پسپائی اختیار کی جائے۔
سیاست ہمیشہ نتیجہ خیز حکمتِ عملی کا تقاضا کرتی ہے۔ سوال یہ نہیں ہوتا کہ احتجاج جاری ہے یا ختم، بلکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ اس لمحے اختیار کی گئی راہ سے قومی تحریک کو فائدہ ہو رہا ہے یا نقصان۔ موجودہ صورت حال میں ہم سب نے مشاہدہ کیا کہ حکومت نے بے حسی، ہٹ دھرمی اور جبر کی ہر حد کو پار کر لیا۔ احتجاج کے جواب میں کسی قسم کی لچک نظر نہیں آئی، بلکہ ریاستی تشدد میں مزید شدت آئی۔
ایسے میں محض علامتی طور پر بیٹھے رہنا یا کارکنوں کو ریاستی جبر کے سامنے قربانی کا بکرا بننے دینا دانش مندی نہیں تھی۔ بی این پی نے ماضی میں بھی اپنی قربانیوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جدوجہد سے پیچھے ہٹنے والی قوت نہیں۔ حالیہ دھرنے پر بھی شدت پسند حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی۔ ایسے ماحول میں احتجاج کا اختتام ایک تزویراتی اقدام تھا، پسپائی ہرگز نہیں۔
بی این پی نے ازخود احتجاج ختم کر کے یہ واضح پیغام دیا کہ وہ بلوچ عوام سے نہ صرف محبت رکھتی ہے بلکہ ان کی تکالیف کو بھی سمجھتی ہے۔ دوسری طرف حکومت کی سنگ دلی نے بھی یہ عیاں کر دیا کہ ریاست کو نہ عوام کی فکر ہے اور نہ انسانی مجبوریوں کی۔ رخشان جیسے علاقوں میں سڑکوں کی بندش نے عوام کو دوائیوں، خوراک اور آمدورفت سے محروم کر دیا۔
یہی وہ مقام تھا جہاں بی این پی نے اخلاقی برتری کا مظاہرہ کیا اور واضح کر دیا کہ احتجاج کا مقصد عوام کی اذیت نہیں بلکہ ان کے حقوق کی بازیابی ہے۔
بدقسمتی سے بلوچستان کی سیاست میں اکثر حب الوطنی کا اعتراف مرنے کے بعد کیا جاتا ہے۔ زندہ رہنما جب میدانِ سیاست میں فیصلہ کرتے ہیں تو انہیں شکوک و شبہات کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ سیاست میں کبھی کبھی دو قدم آگے بڑھنے کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔
اختر مینگل اور بی این پی کی قیادت نے ہمیشہ جدوجہد کو اولیت دی ہے اور کسی بھی مرحلے پر عوامی مفاد کا سودا نہیں کیا۔ نہ ماضی میں، نہ اب، اور نہ آئندہ۔
تاریخی تناظر میں دیکھیں تو ایسی مثالیں کثرت سے موجود ہیں جہاں احتجاجی تحریکوں کو وقتی طور پر روکا گیا یا حکمتِ عملی بدلی گئی — لیکن مقصد بدلا نہیں۔ ماما قدیر کی لانگ مارچ ہو یا ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کا دھرنا، یا پھر گاندھی کی تحریکِ ترکِ ہند ہو — ہر جگہ یہی سچائی نظر آتی ہے کہ حکمتِ عملی حالات کے مطابق ڈھالی جاتی ہے، مگر منزل پر سمجھوتا نہیں ہوتا۔
مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی تحریک بھی اسی اصول پر قائم تھی کہ کبھی کبھی ظلم کے جواب میں احتجاج سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے اخلاقی بلندی کا مظاہرہ۔ یہی شعور سیاست کو انتہا پسندی سے بچاتا ہے۔
لہٰذا، زمینی سیاست سے جڑے رہنماؤں کو ہمیشہ اس توازن کے ساتھ فیصلے کرنے پڑتے ہیں — نہ جذباتیت میں بہہ کر سب کچھ داؤ پر لگا دینا دانش مندی ہے، نہ بے عملی کا شکار ہونا۔

