تربت (گدروشیاپوائنٹ) گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان ضلع کیچ کے صدر اکبر علی اکبر نے مند و تمپ اور کولواہ کے معتبرین سے اپنی الگ الگ ملاقات میں کیچ کے تعلیمی مسائل و مشکلات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان اور محکمہ تعلیم کی جانب سے بلوچستان بھر میں تعلیمی ماحول میں بہتری کے صرف دعوے کیئے جا رہے ہیں جبکہ اصل حقائق اس کے برعکس ہیں انہوں نے کہا کہ تعلیمی معیار کا اس سے اندازہ لگائیں کہ اس وقت صوبے میں اساتذہ کی پندرہ ہزار سے زائد پوسٹیں خالی پڑی ہیں ، تین ہزار سے زیادہ تعلیمی ادارے اساتذہ کی کمی کی وجہ سے بند ہیں اور تیس لاکھ کے لگ بھگ بچے سکولوں سے باہر ہیں اس حوالے سے اگر صرف ضلع کیچ کو سامنے رکھا جائے تو یہاں بھی ایک ہزار کے لگ بھگ اساتذہ کرام کی پوسٹیں خالی ہیں اور بیشتر گرلز ہائی سکولوں میں ایس ایس ٹی کی آسامیاں عرصہ دراز سے خالی پڑی ہیں ، 200 سے زائد پرائمری اسکولوں میں سنگل ٹیچر تعینات ہیں اور کئی پرائمری سکول اساتذہ کے نہ ہونے سے بند پڑی ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ جونیئر اساتذہ کے پروموشن رولز میں کئی بنیادی نقائص پائی جاتی ہیں جن میں قابلیت اور تعلیمی استعداد کو یکسر مسترد کرنا سب سے اہم ہے محکمہ تعلیم میں بنیادی حیثیت کے عامل کیڈر جے وی ٹیچرز جسکی محکمہ میں عددی حیثیت بھی سب سے زیادہ ہے کو اسکی تعلیمی قابلیت کے مطابق 50 فیصد ایس ایس ٹی پروموشن کوٹہ سے باہر رکھنا نہ صرف انکے ساتھ بلکیں تعلیمی بہتری کیلئے بھی ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ جونیئر اساتذہ کی اور خاص طور جے وی ٹیچرز کو بی اے بی ایڈ کی بنیاد پر بحیثیت ایس ایس ٹی پروموشن دیا جائے تاکہ سکولوں میں موجود ایس ایس ٹی ٹیچرز کی کمی کو پورا کر کے کوالٹی ایجوکیشن کی تکمیل کی جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت سے بلاوجہ اور سیاسی انتقام گیری کی وجہ سے تبادلے کیئے جا رہے ہیں جس سے تعلیمی ماحول میں مزید ابتری آ رہی ہے اور مسائل جنم لے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ تعلیمی بہتری کے دعویدار حکام بالا محکمہ تعلیم کو ایکٹنگ چارجز اور ایڈہاکزم پر گھسیٹے جا رہے ہیں اور کئی سالوں سے سکولوں کی مجموعی مرمت اور انفراسٹرکچر کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور اس سال پہلے سے رکھی گئی سکولوں کی مرمت کے لئے معمولی رقم کو بھی سکولوں سے چھین لیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ سکولوں میں پہلے سے موجود کم وسائل کو مزید کم کرنا یا ختم کرنا تعلیم پر قدغن لگانے کے مترادف تصور ہو گا۔انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سی ایس بلوچستان ، وزیر تعلیم بلوچستان اور سیکرٹری تعلیم بلوچستان سردار صالح محمد ناصر سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کی کمی اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں اور مستقل بنیادوں پر ڈھائی سال سے تعطل کے شکار ایس بی کے پاس امیدواروں کی تعیناتی سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق مستقل بنیادوں پر عمل میں لایا جائے اور کنٹریکٹ پالیسی کو منسوخ کر بلوچستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کیا جائے ۔

