تربت (گدروشیا پوائنٹ) تربت کے شہری ڈاکٹر صدام بلوچ نے گدروشیا پوائنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 6 اپریل کی صبح ساڑھے دس بجے ملک برادرز ٹرانسپورٹ کی ایک بس تربت سے کراچی کے لیے روانہ ہوئی۔ شام چھ بجے کے قریب اوتھل زیرو پوائنٹ کے نزدیک کوسٹ گارڈ نے بس کو روک لیا اور بتایا کہ بس میں غیرقانونی (اسمگلنگ) ڈیزل لدا ہوا ہے۔ بس میں خواتین، بچے اور بزرگ مسافر بھی سوار تھے۔ ڈاکٹر صدام بلوچ کا کہنا تھا کہ مکران کے لوگ اکثر علاج معالجے کیلئے کراچی کا سفر کرتے ہیں اور اسی بس میں ان کے اہلِخانہ کی ایک حاملہ خاتون سمیت بیمار افراد بھی موجود تھے۔
ڈرائیور نے مسافروں کو طفل تسلیاں دیتے ہوئے کہا کہ بس آدھے گھنٹے میں روانہ ہو جائے گی۔ مگر اسی انتظار میں پوری رات گزر گئی۔ مسافر کھلے آسمان تلے شدید تکلیف اور اذیت میں مبتلا رہے۔ ان کے پاس نہ سونے کی سہولت تھی، نہ کھانے پینے کا انتظام۔ آخر کار صبح دس بجے مسافر چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے کراچی روانہ ہوئے۔
ڈاکٹر صدام کا کہنا تھا کہ یہ بسیں مسافروں کو محض ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہیں جبکہ اصل مقصد غیرقانونی ڈیزل کی ترسیل اور ذاتی مفاد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ انہیں عوام کی تکلیف یا سلامتی کی کوئی پروا نہیں۔ ہے یہی وجہ ہے کہ ہر سال ان ہی بسوں میں آگ لگنے یا دیگرحادثات کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ بسوں کے نچلے حصے میں ڈیزل بھرا ہوتا ہے اور اوپر انسانی جانیں خطرے میں ڈال دی جاتی ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ عوام کو اس طرح موت کے منہ میں دھکیلا جائے؟
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس جرم میں متعلقہ ٹرانسپورٹ حکام، پولیس، انتظامیہ اور حکومت بھی برابر کی شریک ہیں، جنہوں نے ان ٹرانسپورٹرز کو ’ڈیل‘ دے کر خود خاموش رہتے ہیں۔ ان تک کسی کا ہاتھ نہیں پہنچتا۔ اس ظالمانہ روش کے خلاف سول سوسائٹی اور تمام سیاسی جماعتوں کو خاموشی توڑ کر آواز بلند کرنی چاہیے اور انتظامیہ کو فوری اور سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
ٹرانسپورٹروں میں ایک مضبوط لابی موجود ہے جو سرکاری کرایہ پر بسیں چلانے سے انکاری ہے اور کرایہ بڑھانے کے نام پر عوام کو بلیک میل کرتی ہے۔ ہم عوام کا مطالبہ ہے کہ کلومیٹر کے حساب سے کرایہ سرکاری طور پر فکس کیا جائے اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ جب وہ کرایہ بڑھائیں تو بدلے میں تربیت یافتہ ڈرائیور، معیاری بسیں اور وہی سہولیات فراہم کریں جو کراچی سے لاہور یا لاہور سے اسلام آباد کے سفر میں میسر ہیں۔ اگر ایسی سہولیات میسر ہوں تو ہم زیادہ کرایہ دینے پر تیار ہیں۔
آخر میں انہوں نے مکران کے تمام عوام سے اپیل کی کہ سفر سے قبل بسوں کی مکمل جانچ پڑتال کریں اور اپنے پیاروں کی زندگیاں ان خودغرض عناصر کے ہاتھوں نہ سونپیں جو انہیں صرف اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بس پر سوار ہونے سے پہلے چند لمحوں کی مزاحمت، ایک طویل اور اذیت ناک سفر سے بچا سکتی ہے۔ کسی مسیحا کا انتظار مت کریں۔ آج ہی سے مزاحمت کریں اور ان بسوں میں ڈیزل اور پٹرول لادنے نہ دیں۔

