ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اپنی جدوجہد کے شروع سے لیکر آج تک سخت بات نہیں کرچکی ہیں، وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کامطالبہ کررہی ہیں، سابق سینیٹر میر محمد اسلم بلیدی

تربت(گدروشیا پوائنٹ) مکران کے سینئر سیاستدان، سابق صوبائی وزیر وسابق سینیٹر میر محمد اسلم بلیدی نے کہاہے کہ طاقتور حلقوں کی جانب سے سنجیدگی کے فقدان اور زمینی حقائق کے صحیح ادراک نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان کے حالات میں بہتری کے آثار نظر نہیں آرہے بلکہ بلوچستان کا مسئلہ روز بروز شدت اختیارکرتا جارہاہے، بااختیار ادارے اگرچاہیں تو کسی بھی مسئلہ کا حل ناممکن نہیں مگر اس کیلئے سنجیدگی اور خواہش لازمی شے ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کے روز تربت میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں حالات کی خراب کا آغاز جنرل مشرف کی 12اکتوبر کی مارشل لاء سے ہوا، نواب بگٹی کی شہادت کے سانحہ نے جلتی پر تیل کاکام کیا، بااختیار ادارے اگر چاہیں تو بلوچستان کامسئلہ بھی بتدریج حل ہوسکتا ہے ہر مسئلہ کا آخری حل ٹیبل ٹاک ہوتا ہے، معاملہ فہمی سے کام لیکر سنجیدگی کامظاہرہ کرکے رفتہ رفتہ اعتماد سازی کی فضاء قائم کرلیا جائے تو شاید بہتری کے آثار نظر آئیں، انہوں نے کہاکہ حکمران ہر مسئلہ کا حل طاقت کی زبان کو سمجھتے ہیں جس سے معاملات بہتری کے بجائے بدتری کی جانب بڑھ رہے ہیں، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اپنی جدوجہد کے شروع سے لیکر آج تک ایسی سخت بات نہیں کرچکی ہیں ان کے مطالبات آئین وقانون کے دائرے کے اندر ہیں وہ بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتی ہیں، وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کامطالبہ کررہی ہیں، پاکستان کا آئین اور عالمی قوانین بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں، لوگوں کو لاپتہ کرنا، مارنا پھینکنا ملکی آئین اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، کوئی اگر مجرم ہے تو اس کے لئے ایک مکمل عدالتی نظام موجود ہے ملکی آئین کے تحت عدالتوں کے ذریعے سزاوجزا کا تعین کیاجائے، یہ مطالبہ کوئی غلط اورناجائز مطالبہ تو نہیں ہے مگر یہ مطالبہ بھی طاقتور حلقوں کو راس نہیں آتی، بلوچستان کے تناظر میں حکومت اوربااختیار اداروں کو بہت سے معاملات میں لچک دار رویہ کامظاہرہ کرنا چاہیے، جو لوگ آئین کے دائرے میں رہ کر آئین وقانون کی بالادستی کی بات کررہے ہیں حکومت کو ان سے تو آئین کے مطابق ڈیل کرنا چاہیے، وفاقی وصوبائی حکومت اور سیکورٹی اداروں کا رویہ مشفقانہ ہونا چاہیے۔