تربت کی معروف ادبی شخصیت شہداد چاہ سری کون تھے؟
تربت(گدروشیا پوائنٹ/ماجد صمد)
صوبائی اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان شیھک شہداد، پی ڈی ایم اے بلوچستان کے صوبائی ایمرجنسی رسپانس آفیسر شاہنواز شہداد کے والد محترم اور ضلع کیچ کی معروف سیاسی، سماجی و ادبی شخصیت، بلوچی زبان کے مشہور شاعر واجہ شھداد چاہ سری کی رسم سوئم 23 نومبر کو انکے آبائی علاقہ چاہ سر میں ادا کی گئی۔
رسم سوئم میں معروف ادبی شخصیت، مصنف اور دانشور واجہ جان محمد دشتی، نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما واجہ ابوالحسن بلوچ، میر نیاز کیازئی، گوادر کی معروف شخصیت میر ارشد کلمتی، ڈپٹی سیکرٹری اسپورٹس و یوتھ آفیئرز خرم خالد، کمشنر مکران داؤد خان خلجی، ڈپٹی کمشنر کیچ اسماعیل ابراہیم، چیف آف سیکشن پی اینڈ ڈی یونس سنجرانی،سابق ڈی جی لیویز طفیل احمد، طارق خان مینگل، یونیسیف کے ضیاء سمالانی، پروفیسر باقی جتک، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز و ہائیر ایجوکیشن (ٹیکنیکل)، ڈیلٹا ادارہ کے سربراہ پروفیسر برکت اسماعیل، ڈیلٹا سکول کے پرنسپل مراد اسماعیل، آفیسر بختیار اسماعیل، ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز مکران ڈاکٹر اسلم آزار، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹرعزیز دشتی، ٹھیکیدار خیر محمد کلانچی ، ٹھیکیدار سلمان کلانچی, ڈپٹی میئر تربت نثار احمد، ناظم الدین ایڈووکیٹ ، کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمجید شاہ، جنرل سیکرٹری نیاز احمد،ہائی کورٹ بار کے قاسم گاجیزئی ، گوادر بار کے صدر نعیم شریف، پی ٹی آئی کے صوبائی نائب صدر وارث دشتی، بی این پی کے اسفندیار بزنجو، مکران میڈیکل کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر، ہیڈ آف میڈیسن ڈیپارٹمنٹ، ٹیچنگ اسپتال تربت کے جنرل فزیشن پروفیسر ڈاکٹر ظفر بلوچ، سینئر چائلڈ اسپشلسٹ ڈاکٹرز آصف بلوچ، ڈاکٹر اقبال بلوچ، ڈاکٹر غنی بلوچ، ڈاکٹر اکبر ملک، سینئر اسکن اسپلشلٹ ڈاکٹر میران دشتی، سینئر ماہر الٹراساؤنڈ ڈاکٹر عطاء اللہ دشتی، پی پی ایچ آئی کیچ کے ہیڈ ڈاکٹر منیر احمد، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما صبغت اللہ شاہ جی ، کاروباری شخصیات اسلم شاہوانی، علی محمد شاھل ،کوئٹہ اور مکران سے سرکاری آفیسرز، مختلف مکاتب فکر کی شخصیات اور افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے مرحوم کی مغفرت اور ایصال ثواب کیلئے فاتحہ پڑھی اور انکے فرزندان اور فیملی ممبران سے تعزیت کا اظہار کیا ۔
ضلع کیچ کی ادبی و سماجی اور سیاسی تاریخ میں واجہ شھداد چاہ سری کا نام مقامی سطح پر ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ آپ کا تعلق بلوچ قوم کے معروف قبیلہ درزادہ سے تھا۔ 1950 میں پیدا ہونے والے واجہ شھداد چاہ سری نے اپنی ابتدائی تعلیم چاہ سر پھر 1968 میں گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول تربت سے میٹرک کی، اور بعد ازاں 1972 میں عمان مسقط آرمی میں شمولیت اختیار کی۔ 1991 میں بحثیت سارجنٹ میجر ریٹائر ہونے کے بعد آپ نے اپنی علمی و ادبی سفر کو مزید فروغ دیا اور ساتھ ہی مقامی سطح پر سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کیا
آپ کی شاعری بلوچی زبان کے معروف گلوکاروں جیسے کہ استاد شفی، صابر علی، خلیل شاہی تمپی، مراد بخش آبسری، علی عادل دالبندینی، راشد سبز، سلیم امین، خیر جان بہمنی اور دیگر فنکاروں نے گائے ہیں۔ مکران کی تاریخ ودیگر موضوعات پر مبنی آپ کی اشعار اور تحریریں مختلف بلوچی رسائل جیسے “بلوچی دنیا”، “زند مان”، “ساچان” “الس” اور دیگر میں شائع ہو چکی ہیں۔ آپ کی تصانیف کا حوالہ معروف ادبی شخصیت و مصنف صباء دشتیاری حمید بلوچ نے اپنی کتاب میں بھی حوالہ دیا ہے۔
شھداد چاہ سری کو بلوچی، انگریزی، اردو اور عربی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔
انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت و تعلیم پر خاص توجہ دی انکے دو انتہائی قابل فرزند شیھک بلوچ اور شاہنواز بلوچ بحیثیت آفیسر بلوچستان بیوروکریسی میں مختلف پوسٹوں پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اپنے شعبے میں قابلیت، محنت ومخلصی، مردم شناسی و مردم دوستی اور کمیٹڈ کی وجہ سے مختصر مدت میں بلوچستان بیوروکریسی میں قابل اعتبار نام کمایا ہے اس کے باوجود وہ اپنے شفیق والدِ محترم کی طرح ہر کسی سے محبت سے پیش آتے ہیں تکبر اور غرور سے وہ دور سے بھی رشتہ داری نہیں رکھتے ہیں۔

