تربت (گدروشیاپوائنٹ) متحرک سماجی کارکن وسیم سفر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آواران کے تیرتیج کے رہائشی دل جان کی عدم بازیابی کیخلاف آواران ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے جاری دھرنا کے مظاہرین کو ضلعی انتظامیہ سیکورٹی فورسز کی جانب ہراساں کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہیں اگر ضلعی انتظامیہ آوران سیکورٹی فورسز کی روایہ مظاہرین کیساتھ درست نہیں رہا تو اس احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع ہوتے ہوئے دوسرے اضلاع شہروں میں پھیلا جائے گا آواران ضلعی انتظامیہ سنجیدگی سے مظاہرین کی آئینی و قانونی مطالبات کو تسلیم کر کے ان کی جائز مطالبات کو فوری طور پر قبول کریں۔ ضلعی انتظامیہ مقتدرہ قوتیں اس غلط فہمی سوچ میں نہ رہیں کہ آواران ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے چند عورتیں بچے بیھٹے ہوئے ہیں انہیں ڈرا دھمکا کر آخر میں یہ تنگ ہو کر چلے جائیں گے پورے بلوچستان میں اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے پوری بلوچ قوم ان عورتوں بچوں کی ساتھ کھڑے ہیں یہ تنہاہ نہیں ہیں۔ وہ پُرامن طریقے سے جینے کا حق مانگ رہے ہیں انہیں جینے دیا جائے وگرنہ طاقت آزمائی ہر وقت آپ نے لوگوں پہ کی ہے۔ اور کر رہے ہو کیا نتیجہ اخذ کیا آپ ایک گھر کے خاندان کے سرمایہ کو لیکر سالوں سال غائب کر دیتے ہیں اسکی فیملی کو یہ حق نہیں آپ سے پوچھا جائے بتا میرے بندے کا قصور کیا ہے ریاست و ریاستی اداروں کو اپنے ایک تنخواہ دار ملازم کی فکر لاحق ہو تو ایک ماں باپ بھائی بہن بیٹے کو کیوں یہ حق حاصل نہیں ہے۔ اپنے لوگوں کی ناجائز غیر جمہوری غیر آئینی طریقے اغواء نما گرفتاریوں کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کی حق کیوں انہیں حاصل نہیں ہیں۔ یہ نا ریاستی طرز عمل ہے ناکہ مہذب دنیا میں کسی جنگی اصول ہیں بس یہاں بلوچستان میں اپنا قبضہ گیری برقرار رکھنے کی خاطر بغیر کسی جرائم کی پاداش میں بلوچ فرزندوں کو درندگی کا نشانہ بنایا جارہاہے۔ دنیا میں اتنے حیوان نہیں مرتے جتنے بلوچستان میں بلوچ قوم کے فرزندوں کو مارا جا رہا ہے غزہ اسرائیلی بمباری سے اتنے فلسطینی روز نہیں مرتے جتنے بلوچستان میں اغوا نما گرفتار قتل کر دیئے جاتے ہیں پھر یہی لوگ یہاں بیٹھ کر فلسطین پہ اسرائیلی جارہیت کشمیر میں بھارتی جارہیت پالیسیوں کیخلاف بولتے ہیں سب سے پہلے آپ اپنی گریباں پہ جانک لیں آپ یہاں بلوچستان میں بلوچوں کیساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں آواران ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے پرامن اختجاج میں بھیٹے لوگوں کی ٹینٹ تک چھین لئے گئے ہیں انکی پانی بند کر دیا گیا ہے قریب جوار کے لوگوں کی مظاہرین کی امداد کرنے پہ شدید قسم کی دھمکیاں دی گئی ہیں قریبی چیک پوسٹ سے اسلحہ بردار سیول وردی والے اداروں کے لوگ مظاہرین کو ہراس کر رہے ہیں آگر مظاہرین کو کوئی نقصان پہنچا تو اسکی زمہ دار ضلعی انتظامیہ آوران ریاستی سیکورٹی فورسز پر عائد ہوتی ہیں پرامن مظاہرین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کریں.

