تربت (گدروشیا پوائنٹ) گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کوشقلات تربت کے زیراہتمام یوم علامہ اقبال کے مناسبت پر تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں طلباء نے بهر پور شرکت کی اور طلباء نے علامہ اقبال کی فکر و فلسفہ پر تقریر کی اور علامہ اقبال کی نظم کے ساته خوبصورت نعت بهی پیش کیئے. آخر میں ہیڈ ماسٹر لیاقت علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ علامہ اقبال کی تصورِ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک الگ قوم کے طور پر شناخت کا تصور تھا۔ 1930ء میں اپنے خطبۂ الہ آباد میں انہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک خودمختار ریاست کا مطالبہ کیا۔ اقبال نے محسوس کیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، جن کی مذہبی، ثقافتی اور معاشرتی اقدار مختلف ہیں۔ اس وجہ سے انہوں نے ایک علیحدہ وطن کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مسلمان اپنے دین اور ثقافت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اقبال کا تصورِ پاکستان اسلامی اصولوں پر مبنی ایک مثالی ریاست کا تصور تھا، جہاں مسلمان انصاف، مساوات اور بھائی چارے کے اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں۔ انہوں نے اسلامی معاشرتی نظام اور اسلامی اصولوں کو معاشرتی اور اقتصادی ترقی کا ذریعہ قرار دیا۔ اقبال کی یہ فکر بعد میں تحریک پاکستان کی بنیاد بنی اور قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اس تصور کو حقیقت میں بدلنے کی جدوجہد کی گئی، جو بالآخر 1947ء میں پاکستان کے قیام پر منتج ہوئی۔

