تربت(گدروشیا پوائنٹ)بلوچستان کے بڑے بڑے سیاسی قبائلی شخصیات نہ میر غوث بخش بزنجو مکران میں ایسا جلسہ کیا،نہ نواب خیر بخش مری نہ سردار عطااللہ مینگل اور نہ نواب اکبر بگٹی ایسا جلسہ کرسکا جو کل ایک مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی ایک عام سیاسی ورکر ڈاکٹر مہرنگ بلوچ نے کی،یہ سب ریاستی ظلم جبر نا انصافی استحصال اور دہشت کا نتیجہ ہے،کئی سالوں سے لوگوں کے دلوں میں پکنے والی آتش فشاں ہے جو پھٹ گیا،اب ظلم جبر قومی محکومی نے دم توڑنا ہے، ریاست اپنی جبر جاری رکھنے کا غلطیاں کرتے رہے،بلوچ قوم منظم ہوتا جائے، ہوگا کوہ پیچھے سے طلوع آفتاب۔۔۔ یہ شب مستقل رہے گی کھبی یہ نہ سوچیئے۔۔۔ بلوچستان کے سابق سینیٹر، سابق صوبائی وزیر اور بزرگ بلوچ قوم پرست رہنما میر محمد اسلم بلیدی کی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیراہتمام تربت میں منعقدہ تاریخی جلسہ عام سے متعلق اظہار خیال

