الیکشن 2024 کے دوران بلوچستان میں اب تک مختلف حملے، فائرنگ اور واقعات

کوئٹہ (گدروشیا پوائنٹ) الیکشن شروع ہوتے ہی بلوچستان کے مختلف اضلاع بشمول صوبائی دارالحکومت کوئٹہ، کیچ، گوادر، پنجگور، خاران اور کوہلو میں حملوں کی خبرین آنا شروع ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق ضلع کیچ تربت میں آج صبح آبسر کہدہ یوسف محلہ کے ایک پولنگ اسٹیشن پر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کیا جبکہ حملے میں نقصان کی کوئی معلومات سامنے نہیں آئی۔ دریں اثناء پھٹان کہور تربت میں بھی ایک پولنگ اسٹیشن پر دو راکٹ حملے کی اطلاعات ہیں۔ زرائع کے مطابق گومازی میں صبح سے دوپہر کے وقت 3 بم حملے ہوئے جس کے بعد پولنگ اسٹیشن بند کردی گئی اور اسٹاف غیر موجود رہا، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر بھی گومازی میں فائرنگ کے واقعات کے اطلاعات ہیں۔ دریں اثناء گوکدان، بلیدہ اور ڈنک میں بھی دھماکے کے اطلاعات ہیں جبکہ ناصر آباد مجوزہ کے پولنگ اسٹیشن پر بھی دھماکے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ نوانو زعمران میں خواتین نے پولنگ اسٹیشن کے سامنے احتجاج کی اور پولنگ اسٹیشن کے سامان کو نذر آتش کردی جبکہ ہیرونک میں پولنگ اسٹیشن کے باہر خواتین نے احتجاج کرکے ووٹ نہ دینے کی اپیل کی۔ مند گوبرد اور گوگ میں خواتین نے پولنگ اسٹیشن پہ دھاوا بول دیا اور پولنگ اسٹیشن کے سامان کو توڈ دیا۔ دریں اثناء ھوت آباد تربت میں پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ ہوا ہے۔ خیر آباد میں بھی دو دھماکے کے اطلاعات ہیں۔زرائع کے مطابق فائرنگ اور دھماکے کے بعد ھوت آباد اور خیر آباد میں بھی پولنگ اسٹیشنز کو بند کردیا گیا ہے۔ جبکہ اسی طرح ضلع گوادر کے شہر پسنی میں دو IED بم دھماکہ، اور جیونی کے علاقہ بندری میں پولنگ اسٹیشن پہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ کی اطلاعات ہیں۔ اور گوادر پلیری کے مقام پر اسسٹنٹ کمشنر گوادر نوید عالم کے گاڈی پہ بھی ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ ہوا ہے جس سے وہ معجزانہ طور پر بچ گیا ہے جبکہ اس کے دو سیکورٹی گارڈز شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اسی طرح ضلع خاران لجے میں پولنگ اسٹیشن پر دستی بم سے حملہ اور فائرنگ کے واقعات رونما ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہونے کے اطلاعات ہیں۔ دریں اثناء ضلع پنجگور میں تسپ نوک آباد ہائی اسکول کے پولنگ اسٹیشن پر دستی بم حملہ و فائرنگ سے دو لوگ زخمی ہونے کے اطلاعات ہیں جن کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔