مند پولنگ اسٹیشن/ردیدگ، بلو، ملاچات اور تلمب میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوچکی ہے، الیکشن نہیں سلیکشن ہورہی ہے،قاسم دستی

تربت(گدروشیاپوائنٹ)بلوچستان نیشنل الائنس کے امیدوار این اے 259 قاسم دشتی نے مند کے پولنگ اسٹیشن میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہاہے کہ جیساکہ آپ سب کے علم میں ہے کہ آج مورخہ 8 فروری کو جنرل الیکشن ہورہے ہیں۔ مند کے پولنگ اسٹیشنز جن میں ردیدگ، بلو، ملاچات اور تلمب وغیرہ شامل ہیں۔ بڑی پیمانے پر دھاندلی ہوچکی ہے جسکا واضح ثبوت یہ ہے کہ مشرکہ پولنگ اسٹیشن میں کُل ووٹرز کی تعداد 1245 ہے لیکن جب پریذیڈنٹگ آفیسر نے الیکشن کمیشن کے سیل شدہ بیگ کھولے تو حیرت انگیز طور پر 500 بیلٹ پیپرز پائے گا اور غالباً گمان یہ کہ باقی 745 بلیٹ پیپرز من پسند امیدوار کے تھے۔ پریزیڈنٹگ آفیسر جاوید حسین جو ایک جی وی ٹی اور نوکباد تربت سے تعلق رکھتا ہے نے تحریری طور پر تمام امیدواران کے پولنگ ایجنٹس کے سامنے اقرار کیاکہ مزید پولنگ اسٹیشن مالا چات مند جہاں کُل ووٹرز کی تعداد 1713 ہے۔ لیکن جب بیگ کھولے گئے تو ایک ہزار بیلٹ پیپرز پائے گئے اور 713 پرچہ ہے کہ پہلے ہی من پسند امیدوار کے حق میں لگائے گئے اور گنتی کے وقت شمار کیے جائیں گے۔ اس بات کی تصدیق تحریری طور پر آدم جو پریزائیڈنگ آفیسر ہے نے کردی ہے۔ پولنگ اسٹیشن نمبر 46 گورنمنٹ پرائمری اسکول بلو مند سے کل ووٹرز کی تعداد 1871 ہے لیکن پریزائیڈنگ آفیسر کو جب امیدواروں کے ایجنٹ نے بیلٹ پیپرز کی تعداد پوچھی تو موصوف پریزائیڈنگ آفیسر عطا اللّٰہ جو کہ ایک ایکس رے اسٹینٹ ہے نے گالم گلوچ اور بدتمیزی کی اور بیلٹ پیپرز دکھانے سے انکار کیا۔
مزید براں یہ آپ صحافی حضرات کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ تحصیل مند میں عوام حق راہ دہی کیلئے بلکل چن رہی ہے لیکن من پسند امیدواروں کے لیے ٹھپہ لگایا جا چکا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ووٹرز لسٹ کے مقابلے میں بیلٹ پیپرز غائب ہیں۔ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر پی بی 27 ، این اے 259 اور ڈپٹی الیکشن کمشنر کو باضابط تحریری طور پر یہ شکایت کی جا چکی ہے لیکن تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ الیکشن خاموش ہے اور عوام میں اضطراب اور بے چینی بڑھ رہی ہے جس سے یہ اندیشہ ہو رہا ہے کہ الیکشن نہیں سلیکشن ہورہی ہے۔