چاغی (گدروشیاپوائنٹ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے دالبندین جلسے سے خطابکرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں اور لوگوں کو لاوراث ڈکلیئر کیا گیا ہے، بلوچستان خطرے کی طرف جارہا ہے، حکومت نے اپنے ریاستی مشینری سے بلوچستان کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے سیندک، گوادر، سوئی ،اور گوادر سی پیک کی شکل میں دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا ہے اب بلوچ اور بلوچ قوم کا وجود خطرے میں ہے، بلوچستان کے لوگوں کے ننگ و ناموس خطرے میں ہے، ایسا کوئی دن نہیں گزرتا ہے کسی باپ کا بیٹا لاپتہ نہ ہوں اور تحفے کی صورت کی عید کے دنوں میں لاش بھیجی جاتی ہے، ہزاروں کے تعداد میں بلوچستان کے لوگ لاپتہ ہورہے ہیں، انگریز سو سال تک ہمارے اوپر حکمرانی کی ہمارے لوگوں نے ان کےساتھ جنگیں لڑیں مگر ہمارے بچے لاپتہ نہیں ہوئے مگر اب بیس بیس سال سے ہمارے نوجوان لاپتہ ہیں ایک بہن انتظار میں بیٹھی ہے بھائی آئیگا اور ایک بوڑھی ماں انتظار میں ہے کہ میرا بیٹا آئے گا۔ انھوں نے مزید کہا 10 سے 15 سال ایک باپ دن رات محنت کرکے اپنے بیٹے کو لاھور ،کراچی میں پڑھاتا ہے تاکہ وہ پڑھ لکھ کر آجائے اسے سرکاری نوکری مل جائے مگر اس بچے کی ڈگری گھر نہیں پہنچتی، لاش پہنچ جاتی ہے۔اگر کوئی شخص پر امن طور پر احتجاج کرے انھیں بتایا جاتا ہے آپ آئین اور ریاست کو نہیں مانتے، کھبی ہمیں غدار کہا جاتا ہے اور کھبی کہتے ہیں آپ مسلمان نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے بچے، خواتین اور بزرگ اپنے پیاروں کے لیے اسلام آباد پہنچے انکو تشدد کا نشانہ بنایا گیا رات کو ٹھنڈا پانی ان پر پھینکا گیا، انکا قصور یہی تھا کہ وہ اپنے گمشدہ پیاروں کو منظر عام پر لانے کے لیئے پر امن احتجاج کررہے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہر فورم پر مسنگ پرسنز اور جبری طور پر لاپتہ افراد کیلئے نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ ہمیشہ سڑکوں پر بلوچ قوم کے ساتھ رہی۔ انھوں نے مزید کہا ہمیں آئین کا درس دینے والے خود آئین کو روند رہے ہیں۔ اگر ہمارے نوجوانوں نے کوئی جرم کیا ہے، آپ کے پولیس تھانے اور عدالتیں موجود ہیں جو آپ کا آئینی طریقہ کار ہے تھانہ میں بند کرکے عدالتوں میں پیش کیا جائے اگر کوئی جرم ان سے سرزد ہوا ہے وہ واضح تو ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ 2018ءکے الیکشن میں بلوچستان کے لوگوں نے ہمارے چار امیدواروں کو کامیاب کرکے اسمبلی میں بھیجا، ہم مانتے ہیں ہم نے تمام مسائل حل نہیں کیے لیکن بلوچ قوم کی آواز ضرور بنے، بلوچستان کی محرومیوں کے لیے بھرپور آواز اٹھائی ہے ایوانوں میں بلوچستان کی بھرپور نمائندگی کی ہے۔ آخر میں انھوں نے کہا کہ چاغی کے عوام ایران اور افغانستان سرحد کے ساتھ منسلک ہیں اکثر لوگوں کا معاش انہی سرحدوں کے ساتھ ہے، لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت یہ روز گار بنایا ہے، اسی روز گار پر گزارا کررہے تھے۔ اب پابندی کی وجہ سے لوگ متاثر ہوئے ہیں، حکومت کو نظر ثانی کرنا چاہیے، روز گار کے مواقع چاغی کے عوام کو دیں۔ جلسے سے سابق وزیر مملکت ایم اے 260 کے امیدوار حاجی محمد ہاشم نوتیزئی، انجینئر ملک محمد ساسولی، وقارریکی، محمد اقبال ریکی محمد بخش بلوچ ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

