پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل دشت کی جانب سے حلقہ پی بی 27 کیچ تھری مند کم دشت سے پیپلز پارٹی کے امیدوار میر عبدالرؤف رند کی رہائشگاہ تربت میں شمولیتی پروگرام منعقد ہوا۔ جس میں قومی اسمبلی کے امیدوار میر حاجی ملک شاہ گورگیج اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار میر عبدالروف رند نے حلقے میں بجلی، بارڈر ٹریڈ سمیت دیگر عوامی مسائل اور آئندہ کے پروگرام کے حوالے سے خطاب کیا۔ میر عبدالرﺅف رند نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میری سیاست کا محور عوام کی خدمت اور علاقے کی ترقی ہے۔ 2018 کے الیکشن میں کامیابی کے بعد صرف تین مہینے کے لیے مجھے اقتدار ملا تھا۔ ایک سوچھی سمجھی سازش کے تحت مجھے عوام کی خدمت کا موقع نہیں دیا گیا۔ مجھے فخر ہے کہ میں اس عظیم انسان کا فرزند اور سیاسی جانشین ہوں۔ سازشی عناصر نے شیر مکران میر محمد علی رند کے فلسفے کو مسخ کرنے کی کوشش میں ہمارے خاندان میں پھوٹ ڈالنے کے لیے کئی حربے استعمال کیے۔ ان کو پتا تھا کہ اس خاندان کو تقسیم کیئے بغیر وہ اپنے مذموم مقاصد حاصل نہیں کرپائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرے قول و فعل میں تضاد نہیں ہے، میرے لیے اقتدار اپنی تجوریاں بھرنا نہیں ہے اور اقتدار کے حصول کی خاطر اپنے ضمیر کا سودا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، میرا قیمتی سرمایہ وہ عوام ہیں جنہوں نے ہر دور میں ہمارا ساتھ دیا ہے اور آج میں اس مقام پر کھڑا ہوں میرے حلقے کے عوام کا مجھ پر اعتماد ہے جس دن عوام کا مجھ پر اعتماد ختم ہوا مجھے انکے سامنے کھڑے ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔ جبکہ این اے۔259 کیچ گوادر کی نشست کے امیدوار حاجی ملک شاہ گورگیج نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی بلوچستان کی سر زمین کا سپوت ہوں جو لوگ مجھے افغانی اور غیر مقامی کا طعنہ دے رہے ہیں وہ بوکھلاہٹ کے شکار ہیں انکو اپنی کشتی ڈوبتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ شکست انکا مقدر بن چکی ہے، اس لیے وہ پروپیگنڈوں کا سہارا لیکر اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو بحال کرنے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ایک قد آور سیاسی شخصیت جو وزارت اعلی کی کرسی پر بھی براجمان رہ چکے ہیں اور بلوچوں کو یکجا کرنے کی راگ الاپتے ہوئے نہیں تھکتے ہیں، اقتدار کے حصول کے لیے تعصب کرکے بلوچوں کو مختلف کیٹیگری میں تقسیم کررہے ہیں۔ اگر میرا تعلق دالبندین سے ہے اور میں بلوچستان کے بارڈر پر سکونت رکھتا ہوں تو کیا میں افغانستان کا باشندہ ہوگیا۔ تقریب سے صوبائی اسمبلی تربت سے امیدوار نواب بائیان گچکی، پیپلز پارٹی کے سرگرم رہنما میر زبیر رند، ضلعی صدر حاجی عبدالقدیر، یوسی چیئرمین شاہو رند، چیئرمین خلیل رند، بابو بلوچ، حاجی عبد الرسول بلوچ اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھے۔ پروگرام میں دشت کے سیاسی و سماجی شخصیات فیض محمد شملی، حمل جمعدار کریم، حاجی راشد جمعدار کریم، وائس چیئرمین کپکپار حیدر علی، کہدہ وحید دوست، عبدالواحد، فیروز، مسلم رفیق، حاجی ماجد، حافظ نعیم، صوفی شہداد دوست، شعیب اسلم، کونسلر ماجد دشتی، امید علی حاجی جان محمد، علی مزار، حاجی جمیل اور دیگر سینکڑوں افراد نے تحصیل دشت کے مختلف علاقوں سے نیشنل پارٹی، بی این اے سمیت دیگر پارٹیوں سے استعفی دیکر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں میر حاجی ملک شاہ گورگیج ، میر حاجی عبدالروف رند اور میر ہوتمان بلوچ کی قیادت پر بھروسہ اور اعتماد کرکے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا جبکہ کپکپار دشت سے مولانا فرید کاشاپی، مولانا احمد شاہ کاشاپی، اور دیگر نے الیکشن میں میر عبدالروف رند اور حاجی ملک شاہ کے حمایت کا اعلان کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض صادق تاجر اور جلیل رند نے سرانجام دیئے۔

