برات گہارانی آہینیں پل اَنت

برات گہارانی آہینیں پل اَنت

تحریر: عندلیب گچکی

یہ جو عنوان ہے ایک بلوچی ضرب المثل سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں بھائی بہنوں کی ڈھال ہیں یعنی دنیا میں بہن اور بھائی کا ہی رشتہ ایک ایسا رشتہ ہے کہ اس رشتے کے زریعے عورت ہر شر اور ہر فساد اور ہر مصیبت سے محفوظ رہ سکتی ہے. یعنی بھائی بہن پہ آنے والی تمام تر مصیبتوں کا سامنا کرکے اُسے محفوظ رکھتا ہے. واقعی میں باپ اور بھائی کے علاوہ کوئی ایسا رشتہ نہیں جہاں عورت بغیر کسی لالچ ، غرض اور مطلب کے محفوظ ہوسکے. یہاں تک کہ شوہر بھی نہیں. کیونکہ شوہر اور بیوی کا تعلق بھی چند لفظوں پر منحصر ہوتا ہے اور یہ چند لفظ کبھی بھی ایک دوسرے کو جدا کرسکتے ہیں. لیکن بھائی اور بہن کا رشتہ کبھی نہ ختم ہونے والا رشتہ ہے کیونکہ یہ رشتہ خون کا رشتہ ہے اور جب تک رگوں میں خون دوڑ رہا ہوتا ہے, رشتہ برقرار ہے ، اور ہاں یہ رشتہ خون کے خشک ہونے کے بعد بھی فنا نہیں ہوتا.
لیکن بلوچ قوم ذرا مختلف ہے, شاید اللہ نے اُس کی فطرت ہی کچھ مختلف رکھی ہے کیونکہ بلوچ قوم میں بھائی ہونا صرف خون تک منحصر نہیں بلکہ نسل پر انحصار کرتا ہے. اور جس طرح ایک بلوچ مرد اپنی حقیقی بہن کے لیے غیرت رکھتا ہے اسی طرح وہ پوری نسل کے لیے یہی غیرت رکھتا ہے یہ صرف مفروضوں پر مبنی کہانیاں نہیں اور نہ ہی کہاوتیں ہیں بلکہ بلوچ سماج اور تاریخ میں یہ ٹھوس حقیقتیں ہیں.، دودا بلوچ ، بیبگر ، یہ صرف کہانیاں نہیں بلوچ ہیروز تھے اور آج بھی ایسے ہزاروں ہیروز ہمارے درمیان موجود ہیں جو خاموش ہیں ، بہنوں کے آگے آگے ڈھال بنے ہوئے ہیں اور بلوچ تاریخ میں کوئی بھی ایسی تحریک نہیں جو عورت (بہن) کے بغیر یا مرد.(بھائی) کے بغیر ہوئی ہو. بلوچ تحریکوں میں جس طرح مرد کا کردار ہے اسی طرح عورت کا بھی ہے. یعنی بلوچ نے ثابت کیا ہے کہ عورت اور مرد معاشرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور دونوں کی یکساں حیثیت ہے ۔اور یہ یکساں حیثیت بھی بلوچ مرد نے اس لیے قبول کیا ہے کیونکہ اُس کو خود کا پتہ ہے. اس نے بلوچی غیرت کے تحت مرد اور عورت کو یکساں مقام بخشا ہے. کیونکہ وہ ہمیشہ عورت کی عزت کی خاطر اس کی حفاظت کی خاطر میدان میں موجود رہتا ہے. یہاں بات حقیقی باغیرت بلوچ مرد کی ہورہی ہے ، ورنہ میں بھی اس بات سے انکاری نہیں کہ اس قوم میں کئی بے غیرت مرد بھی ہیں جو بہنوں کی سودا بازی سے دریغ بھی نہیں کرتے ،
بات ہورہی ہے حقیقی باغیرت بلوچ کی تو میں آج ایک ایسے بلوچ بھائی کا ذکر کرنا پسند کروں گی جو عرصہِ دراز یعنی مسلسل ایک جہد کے ساتھ وابستہ ہے وہ ذرا بھی یہاں وہاں نہیں ہوا ، نہ وہ تھک گیا نہ رک گیا اور نہ ہی پیچھے ہٹ گیا ۔۔ حالات کی نزاکت اور عقلمندی تو اسی میں ہے کہ انساں خود کو ضایع نہ کرے بلکہ قوم کے درمیان رہ کر اُن کی خدمت کرے ، یہی سب گلزار دوست کررہے ہیں ۔
گلزار صرف آج ماہ رنگ کے ساتھ نہیں بلکہ وہ لُمّہِ وطن بانک کریمہ کے بھی ساتھ تھے. کبھی کبھی نظریات کے حوالے سے انسانوں کے راستے الگ الگ ہوسکتے ہیں ، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ فرد غلط ہے یا بھٹک گیا ہے ۔
آج کل کے دور میں اکثر لوگ مصروف ہیں خود کے کاروبار میں ، خود کو بنانے میں یا اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ، لیکن ہم گلزار کو دیکھتے ہیں کہ اُس نے سب کچھ چھوڑ دیا ہے اور ہر وقت بلوچ کے ساتھ کھڑے ہیں. الغرض بلوچ کے مختلف مسئلوں میں اُن کے ساتھ ہیں ۔اور آج بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر وہ بلوچ مارچ کے ساتھ ہی اپنی بہنوں کی حفاظت میں ہمہ وقت موجود ہیں. اپنا سب کچھ چھوڑنا اور مارچ کا ساتھ دینا اتنا آسان نہیں. لیکن وہ ایک باغیرت بلوچ یعنی بھائی ہے ۔ اور ایسے ہزاروں بھائی ہیں جو ہمہ وقت بہنوں کی حفاظت میں ڈھال بنے ہوئے ہوتے ہیں ۔ایک بہن اُس وقت بہادر بنتی ہے جب اس کے گھر کے لوگ بہادر اور باغیرت ہوتے ہیں بلوچ بہنیں بھی اپنی بہادر بھائیوں کی وجہ سے ہی باہمت اور بہادر ہیں ۔ یہ بلوچ معاشرے اور بلوچ کی خوبصورتی ہے یہ غیرت بلوچ کو دیگر اقوام سے الگ کرتی ہے. کوئی اگر پوچھتا ہے کہ بلوچ اور دیگر اقوام کے درمیان فرق کیا ہے تو جواب ہوگا فرق بلوچی غیرت کا ہے ۔