تربت(گدروشیاپوائنٹ)تربت کے نوجوان شہید بالاچ بلوچ کی میت کیساتھ لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بلوچستان کے شہر تربت کی مرکزی چوک پر آج چھٹے روز بھی دھرنا جاری ہے، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تربت میں ریلیوں، ہڑتال اور اس دھرنے میں بلوچستان بھر کی آواز شامل ہے اور وہ یہ آواز یہی کہ اغواء نما گرفتاریاں بند کی جائے، جھوٹے مقابلوں کا بے بنیاد دعوے کرنے والے اداروں کو مجرم قرار دیا جائے، المختصر بلوچ نسل کشی بند کی جائے، مگر ریاست اپنے جھوٹے دعوں کے ساتھ اب بھی بلوچ نسل کشی کو جاری رکھنے پے قائم ہے۔ پانچ روز سے جاری اس دھرنے کو ریاست اس نگاہ سے نہیں دیکھ رہا کہ وہ اپنے کیے پہ شرمندہ ہو بلکہ وہ اس نگاہ سے دیکھ رہا ہے کہ دھرنے کو جلد از ختم کیا جائے۔ شہید بالاچ کے لواحقین کو مسلسل ہراساں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، دھرنے پہ موجود لواحقین کو لالچ و دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے اور ہر حال میں ریاست و ریاستی دلال اس کوشش میں لگے ہیں کہ لاش کی تدفین ہو جائے اور دھرنا کسی طرح ختم ہوجائے اس مقصد کیلئے خاندان کو دباؤ میں رکھنا، انہیں دھمکانا، ٹارچر کرنا حتی کہ دہشتگردی پر اتر آکر نجمہ کو زبردستی یہاں سے اغوا کر لینا شامل ہو اور انہیں گھنٹو ں تک اذیت سے دوچار کرنا شامل ہے۔
مگر یہ بات واضع ہے کہ بلوچ قوم جبر سے بیزار ہو چکے ہیں شہید بالاچ کے شہادت کے خلاف جمع ہونے والا یہ مجمع محض ہمدردی کے بنیاد پہ نہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو جبر کا شکار ہوچکے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنکے پیارے لاپتہ ہیں یا شہید کیے جا چکے ہیں، بالاچ کے شہادات سے اٹھنے والا انقلاب ریاست کی پالیسیوں سے دیرینہ بیزاری کے حد سے گزر جانے کا ہے، آج ہر شخص سی ٹی ڈی کی صورت میں ریاست کے بلوچ کش پالیسوں کے خلاف اس دھرنے کا حصہ ہے اور یہ دھرنا اپنے ہدف یعنی بلوچ نسل کشی کو رد کرنے تک جاری رہے گا-
ریاست اس دھرنے اور بلوچ مزاحمت سے بہت زیادہ خوفزدہ ہو چکا ہے اس لیے وہ ہر طرح کے غیر قانونی اور ناجائز اقدامات اٹھانے پر آ چکا ہے اور انہوں نے بالاچ کی لواحقین کو شدید اذیت سے دوچار کیا ہے۔ ریاست کوشش کر رہی ہے کہ اس آواز اور مزاحمت کو دبایا جائیں تاکہ مزید لاپتہ افراد کو فیک انکاؤنٹر میں قتل کیا جائے اور مزید لاپتہ افراد کی لاشیں پھینک دیں۔ شہید بالاچ کی خاندان کے خاموشی ٹوٹ جانے سے ریاست کے خلاف آگ اُمڈ پڑی ہے، ریاست بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکا ہے، ریاست کے پاس کوئی جھوٹا جواز نہیں بچا ماسوائے وہ قبول کرے کہ وہ سب کچھ ہماری نسل کشی کرنے کے لیے کر رہا ہے، اس تحریک کا وسیع ہونا، جھوٹے مقابلوں و جبری گمشدگیوں کے معاملے کو سنگین جرم کا درجہ دینا اور اپنے قوم کو اپنے بقا کے خاطر جدوجہد میں شامل کرنا ہی شہید کے ساتھ انصاف کرنا ہے، آج یہاں سینکڑوں لوگ اس دھرنے میں اس لیے شامل ہے کہ ہم سب کا قاتل ایک ہے، اور مزید جبر سہنا ناگزیر ہوچکا ہے۔
شہید بالاچ کا قتل بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے سی ٹی ڈی کا نام ایک مہرے کے طور پہ استعمال کیا جارہا ہے، اور یہ دھرنا سی ٹی ڈی سمیت نسل کشی کے تمام ضمروں کے خلاف ہے جبکہ تحریک کے الٹی میٹم کو نظرانداز کرکے ریاست نے پیغام دیا ہے کہ بلوچ قوم کے خلاف یہ جنگ، انہیں قتل و غیرت کا نشانہ بنانا ریاست کا فیصلہ ہے اور یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ اب چن چن کر بلوچوں کو قتل کیا جائے گا جس کے بعد اب مزاحمت اور تحریک میں حصہ لینا ہر بلوچ پر فرض بن چکا ہے
قوم پر یہ واضح کر دیتے ہیں کہ ریاست اب کھلی دہشگرتی پر اتر آیا ہے، جہاں پہلے لوگوں کو فیک انکاؤنٹر میں قتل کرنا، انہیں لاپتہ کرنا، بم دھماکوں کے ذریعے شہید کرنا اور اب احتجاج پر بیٹھے بلوچ بہنوں کو بھی دہشت کا نشانہ بنانا شامل ہے۔ جس کی سب سے بڑی مثال شہید بالاچ بلوچ کی ناجائز قتل کے خلاف اس کی مظلوم اور اذیت میں مبتلا بہن نجمہ بلوچ کو گھنٹوں تک حس بےجا میں رکھنا اور ذہنی اذیت سے دوچار کرنا شامل ہے۔ یہ بلوچ قوم کے خلاف ریاستی جنگ کا اعلان ہے
بلوچستان بھر کے لوگوں کو اس ریاستی دہشتگردی کے خلاف نکلنے کی اپیل کرتے ہیں اگر آج ہم اس بربریت پر خاموش رہے تو یہ سنگین قومی غلطی ہوگی

