تربت(گدروشیا پوائنٹ) بلوچستان گرینڈ الائنس کی مرکزی کال پر تربت میں سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا۔ ریلی میں پروفیسرز سمیت مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں خواتین ملازمین نے بھی بھرپور شرکت کی۔ شدید بارش اور سرد موسم کے باوجود ملازمین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کہا کہ ملک بھر کے تمام سرکاری ملازمین برابر ہیں، اگر دیگر صوبوں کے ملازمین کو ڈی آر اے دیاجاسکتا ہے تو بلوچستان کے ملازمین کو اس حق سے محروم رکھنا ناانصافی ہے۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں کرپشن کے لیے وسائل موجود ہیں، مگر سرکاری ملازمین کو ان کے جائز حقوق دینے کے لیے فنڈز نہ ہونے کا بہانہ بنایا جاتا ہے، جو سراسر ظلم ہے۔ احتجاج میں آل پارٹیز الائنس کیچ کے مختلف رہنماؤں نے شرکت کر کے ملازمین کے مطالبات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
مظاہرے سے الائنس کیچ کے آرگنائزر حاجی اختر ایاز، ڈپٹی آرگنائزر پروفیسر شعیب سمین، سبزل خان، ظریف عالیان، پروفیسر گلاب احمد، شہزاد احمد، الائنس کیچ کے ویمن ونگ کی کوآرڈینیٹر میڈم شازیہ بلوچ، آل پارٹیز کیچ کے رہنما ظریف زدگ، بی ایس او پجار کے چیئرمین ایڈووکیٹ بوہیر صالح، سابق سینیٹر اسماعیل، کیچ بار کے صدر مجید شاہ، محراب خان گچکی، نیشنل پارٹی کے رہنما بجار بلوچ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ تربت سمیت بلوچستان بھر میں بارش اور شدید سردی کی لہر جاری ہے، اس کے باوجود لاکھوں مرد و خواتین سرکاری ملازمین سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہیں، لیکن حکومت کی نااہلی کی انتہا یہ ہے کہ وہ مسلسل ہٹ دھرمی، گرفتاریوں اور تشدد کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈی آر اے کی مد میں بلوچستان کے ملازمین کو 30 فیصد دینے کے لیے بجٹ نہ ہونے کا رونا رو رہی ہے، جبکہ بلوچستان کے 36 اضلاع کے لیے ہر سال 52 ارب روپے جاری کیے جارہے ہیں اور اگلے بجٹ سے ہر ضلع کو تین، تین ارب روپے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مخصوص افراد کو ٹھیکوں کے نام پر نوازا جا سکے۔ مقررین کے مطابق ڈی آر اے کے لیے حکومت کو پورے بلوچستان کے ملازمین کے لیے سالانہ صرف 17 ارب روپے درکار ہیں، مگر حکومت اور نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے ملازمین کے لیے یہ رقم موجود نہیں، جبکہ ڈپٹی کمشنرز کے مخصوص بجٹس کے علاوہ 52 ارب روپے ہر سال سرکاری خزانے میں رکھے جاتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ اس دوہرے اور منافقانہ نظام کو ہر فورم پر بے نقاب کیا جائے گا۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان گرینڈ الائنس کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ سرکاری ملازمین کو درپیش معاشی مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ڈی آر اے اور دیگر جائز مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں ملازمین کی تنخواہیں بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو چکی ہیں، اس کے باوجود حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ مقررین نے کہاکہ اگر مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور صوبے بھر میں احتجاجی تحریک کو منظم اور سخت کیا جائے گا۔ اس موقع پر حاجی اختر ایاز نے کہا کہ مطالبات کی منظوری نہ ہونے کی صورت میں تالا بندی اور گرفتاریاں دینے کا مرحلہ وار عمل شروع کیا جائے گا۔ بلوچستان گرینڈ الائنس کے آرگنائزر نے واضح کیا کہ صوبے بھر کے ملازمین کا احتجاج مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔

