گوادر(گدروشیاپوائنٹ)الخدمت فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام بنو قابل پروگرام کے تحت سینیٹر محمد اسحاق کرکٹ اسٹیڈیم گوادر میں ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ و طالبات نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی جس سے امیر جماعت اسلامی پاکستان و بنو قابل کے سرپرستِ اعلیٰ انجینئر حافظ نعیم الرحمن، امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، بنو قابل بلوچستان کے ڈائریکٹر طیب فرید خان، امیر جماعت اسلامی ضلع گوادر سعید احمد ۔ عبدالمجید سربازی اور دیگر نے خطاب کیا، اس موقع پر عبدالمجید سربازی، نعیم رند، مولانا لیاقت، عبدالوہاب، نادل بلوچ و دیگر قائدین بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ افتتاحی تقریب سے امیر جماعت اسلامی پاکستان و سرپرستِ اعلیٰ بنو قابل، انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر کی اس خوبصورت جگہ اور اس کرکٹ اسٹیڈیم میں اتنی بڑی تعداد میں جمع ہو کر حقیقت میں رنگ بھر دیا ہے۔ یہاں موجود نوجوان پڑھنا چاہتے ہیں، آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور ہنر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہیں، بلکہ اپنے گھر والوں، اپنے خاندان، مکران ڈویژن، بلوچستان اور پاکستان کا نام روشن کریں۔ میں مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ ہمارے نوجوانوں کو تعلیم، کتاب، قلم، کمپیوٹر اور جدید دنیا سے جڑنے کے لیے کنیکٹیویٹی کی ضرورت ہے۔ ان میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں جنہیں صرف اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ان نوجوانوں کو مواقع فراہم نہیں کیے جائیں گے اور انہیں آگے نہیں بڑھایا جائے گا، تو وہ کدھر جائیں گے؟ ایک طرف منشیات کے اڈے کھلے ہوں اور دوسری طرف تعلیمی ادارے بند ہوں، تو نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ جب نوجوانوں کے پیارے لاپتا کر دیئے جائیں وہ بار بار شناخت کے لیے لاشوں میں اپنے عزیزوں کو تلاش کریں اور ریاست اپنی ذمہ داری تعلیم، صحت، امن اور روزگار پوری نہ کرے، تو نوجوانوں میں غصہ پیدا ہونا فطری ہے۔ اس غصے کے نتیجے میں وہ غلط راستے بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کا حل آپریشن، فوج کشی یا ڈنڈے کے زور پر رٹ قائم کرنا نہیں، بلکہ لوگوں کو ان کے حقوق دینا ہے۔ بلوچستان کے وسیع رقبے میں 40 سے 50 لاکھ نوجوان ہیں، لیکن پوری صوبائی ملازمتیں صرف دو ڈھائی لاکھ ہیں، باقی نوجوان کہاں جائیں؟ امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ آئینِ پاکستان کے تحت 5 سے 15 سال کے بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر بلوچستان میں تقریباً 50 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ ریاست اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی، مگر شہریوں سے آئین کی پابندی کا تقاضا کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک ایسی بیداری کی ضرورت ہے جہاں ہم اپنے حق کے لیے آواز بھی اٹھائیں اور اپنے حصے کی شمع بھی جلائیں۔ جماعت اسلامی کا ماڈل یہی ہے ہم صرف حقوق کی بات نہیں کرتے بلکہ عملی کام بھی کرتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا آج کی جنریشن زی (Gen-Z) باصلاحیت اور دنیا سے باخبر ہے، وہ سوال کرتی ہے اور مطمئن ہونا چاہتی ہے۔ ہمیں ان کا ہاتھ تھامنا ہوگا۔ اسی لیے ہم نے بنو قابل پروگرام شروع کیا جو پورے پاکستان میں مقبول ہو چکا ہے۔ یہ فری آئی ٹی کورسز ایک گیم چینجر ہیں۔ میں گوادر کی بیٹیوں اور بیٹوں سے کہتا ہوں کہ آپ جتنا پڑھنا چاہیں، ہم آپ کو مفت کورسز کروائیں گے تاکہ آپ ملک و قوم کا نام روشن کریں۔ گوادر کے مسائل پر بات کرتے ہوئے میں حکومت سے پوچھتا ہوں کہ گزشتہ 10 سالوں میں ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی پر اربوں روپے خرچ کیے گئے، مگر کوئی ایسا مستقل منصوبہ کیوں نہیں بنایا گیا جو پورے شہر کو میٹھا پانی فراہم کر سکے؟ دراصل وہ کام کیے جاتے ہیں جہاں کرپشن اور لوٹ مار کا موقع ہو۔ میں ہدایت الرحمن صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں کہ وہ پورے بلوچستان کے عوام کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ امیر جماعت کا کہنا تھا کہ بارڈر ٹریڈ کے حوالے سے ہماری پالیسی واضح ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کو قانونی فریم ورک میں لایا جائے تاکہ عام آدمی کو سستی اشیاء ملیں اور رشوت ستانی کا خاتمہ ہو۔ سی پیک کے حوالے سے حکمران کہتے ہیں کہ گوادر اس کا جھومر ہے، مگر افسوس کہ یہاں نہ موٹر وے ہے، نہ ریل لائن اور نہ ہی پورٹ مکمل فعال ہے۔ پورٹ تب چلے گی جب آپ کی پالیسیاں درست ہوں گی اور نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ جماعت اسلامی آپ کا مقدمہ صرف گوادر میں نہیں، بلکہ پورے پاکستان میں لڑ رہی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی بلوچستان و ممبر صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کا کہنا تھا کہ امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن نے جس محبت سے ہمارے نوجوانوں کی سرپرستی کی ہے، کوئٹہ سے جعفرآباد اور جعفرآباد سے گوادر تک ہمارے بچوں کے لیے جو پروگرام (بنو قابل) بطور تحفہ پیش کیا ہے، میں گوادر کے نمائندے اور بلوچستان کے ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے اس اخلاص اور سرپرستی پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہمارے ان بچوں کو سرپرستی اور مواقع کی ضرورت ہے۔ اللہ پاک نے میرے ان بچوں کو گہرے سمندر سے زیادہ صلاحیتوں سے نوازا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہاں مواقع میسر نہیں اور نہ ہی ہماری سرپرستی کی جا رہی ہے۔ ہمیں تعلیمی اداروں سے دور رکھا گیا ہے۔ حکمران گوادر کو سی پیک کے ماتھے کا جھومر تو کہتے ہیں، لیکن یہاں تعلیمی ادارے موجود نہیں۔ اب الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی نے ان نوجوانوں کا ہاتھ تھام کر ثابت کر دیا ہے کہ جہاں حکومتیں ناکام ہو جائیں، وہاں مخلص قیادت راستہ دکھاتی ہے۔ میں میں حافظ نعیم الرحمن صاحب سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ اسی طرح ہماری سرپرستی جاری رکھیں گے تاکہ ہم مکران اور بلوچستان کے بچوں کو آگے بڑھنے کے مواقع دے سکیں۔ میرا بلوچستان غیرت مند اور مہمان نواز ہے، میرا نوجوان دہشت گرد نہیں۔ بلوچستان کا اصل چہرہ وہ ہے جو آج گوادر کے اس کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود ہے۔ اسلام آباد کے حکمران سن لیں! میرا چہرہ منشیات نہیں، مجھے منشیات کے اڈے نہیں بلکہ تعلیمی ادارے اور آئی ٹی سینٹرز چاہیے۔ ہمیں فوج اور چیک پوسٹیں نہیں، بلکہ ڈاکٹر اور اساتذہ چاہیے۔ ہم ہر دروازے اور ہر فورم پر یہی پکار رہے ہیں کہ ہمارے بچوں کو قلم اور کتاب دو۔ بلوچستان میں اب کسی عسکری آپریشن کی نہیں، بلکہ تعلیمی آپریشن کی ضرورت ہے۔ تعلیم عام کریں تاکہ محرومیوں کا خاتمہ ہو سکے۔

