تربت (گدروشیا پوائنٹ) شاہنواز گل رند کے اغواء اور رہائی کے بدلے بھاری رقم طلب کئے جانے کیخلاف ضلع کیچ کے ہزاروں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ آل پارٹیز مکران کی کال پر تربت میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جبکہ سینکڑوں خواتین کی شمولیت نے ریلی کو مزید مؤثر بنا دیا۔ ریلی کی قیادت نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور بلوچستان کے سابق وزیرِاعلیٰ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ اور آل پارٹیز مکران کے کنوینئر نواب شمبئے زئی کررہے تھے۔ احتجاجی ریلی میں ضلع کیچ کے مختلف علاقوں سے عوام، سیاسی ، کاروباری سماجی، وکلا اور ڈاکٹرز سمیت گوادر اور پنجگور سے تعلق رکھنے والی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ ریلی پریس کلب کے سامنے سے شروع ہوکر، سنیما چوک، قبرستان روڈ سے بازار کی مرکزی چوک، شاہ پور ہوٹل سے تھرمامیٹر چوک، پولیس تھانہ چوک سے واپس نزد تربت پریس کلب احتجاجی ریلی و مظاہرہ نے جلسہ عام کی شکل اختیار کرلی۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے شاہنواز گل رند کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا اور واقعے کو علاقے کے امن و امان اور وفاقی اور بلوچستان حکومت کی کارکردگی پر سنگین سوال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کا اغواء اور تاوان طلب کرنا ناقابلِ برداشت ہے اور ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں یہاں کے باشعور عوام اور سیاسی جماعتوں کو اشتعال دینے کی سنگین غلطی بند کیاجائے اگر حکومت و اداروں سے مطالبہ کرنا ترک کردیا تو بہت برا ہوگا۔واضح رہے کہ نیشنل اسپتال تربت کے پارٹنر مالک شاہنواز گل رند ولد گل جان رند کو یکم دسمبر کو تربت سے مسلح افراد نے اغواء کیا تھا جبکہ اغواء کاروں کی جانب سے اہلِ خانہ سے 60 کروڑ روپے تاوان طلب کیئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ شاہنواز گل رند کی 56 روز سے عدم بازیابی پر اہلِخانہ سمیت سیاسی، کاروباری اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ آل پارٹیز مکران نے واقعے کے خلاف حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کیلئے 28 جنوری کو پورے مکران میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال بھی دی ہے۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور سے بلوچستان میں تشدد اور بدامنی کی جو آگ بھڑکائی گئی وہ آج تک بجھ نہیں سکی۔ جس کے نتیجے میں اب بچے اور خواتین بھی محفوظ نہیں رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شاہ نواز گل جان کے اغوا برائے تاوان کے خلاف جدوجہد سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے اور جب تک ان کی بازیابی عمل میں نہیں آتی احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں روزانہ لوگوں کو اٹھایا اور لاپتہ کیا جارہا ہے حالانکہ بارہا یہ بات دہرائی جاچکی ہے کہ تشدد اور طاقت کے استعمال سے حالات بہتر نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کا واحد حل بات چیت اور جمہوری و سیاسی عمل میں ہے اس لیے لاپتہ افراد کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنا اور طاقت کا راستہ ترک کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تربت میں سیاسی جماعتوں اور عوام کی مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں ماضی میں کسی حد تک امن بحال ہوا تھا تاہم اب ایک بار پھر شہر کو پرانی بدامنی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ شہری عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں اور بدامنی میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جسے روکنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ آل پارٹیز کیچ اور دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں کی مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں اس سے قبل حسیب یاسین کی بازیابی ممکن ہوئی تھی اور اگر شاہ نواز گل جان کو بازیاب نہ کرایا گیا تو اس تحریک کو پورے بلوچستان تک پھیلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اغوا برائے تاوان بلوچستان میں ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے اور مکران میں ایک بار پھر اس کی لہر شروع کی جارہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک جانب بدامنی اور اغوا کی وارداتیں جاری ہیں تو دوسری جانب بارڈر ٹریڈ کے حوالے سےمعاشی طور پر بھی بلوچ عوام کا گھیراؤ تنگ کیا جارہا ہے سرحدی کاروبار کی بندش سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کیچ میں لینڈ مافیا کو تقویت دی جارہی ہے جو شریف النفس لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو عوام کے ساتھ مل کر اس کے خلاف بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔جلسے سے خطاب کرنے والے دیگر مقررین نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ کیچ میں اغوا برائے تاوان اور بدامنی کے واقعات پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور اس کے خلاف منظم اور پُرامن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ جبکہ آل پارٹیز مکران کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ 28 جنوری کو مکران بھر میں شاہ نواز گل رند کے اغوا برائے تاوان کے خلاف مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کی جائیگی احتجاجی جلسہ عام سے آل پارٹیز مکران کے کنوینر نواب شمبےزئی، سیکرٹری اطلاعات علاؤالدین ایڈووکیٹ، پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی نائب صدر میر غفور احمد بزنجو، جے یو آئی شیرانی کے رہنما سابق سینیٹر اسماعیل بلیدی،بی این پی عوامی کے مرکزی نائب صدر ظریف زدگ، مرکزی جمعیت اہلحدیث بلوچستان کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر علی عبدالحنان، جماعت اسلامی کیچ کے سابق امیر غلام یاسین بلوچ، بی این پی گوادر کے صدر ماجد سہرابی، کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر مجید شاہ ایڈووکیٹ، پی ٹی آئی گوادر کے رہنما مولابخش بلوچ، بی این پی کیچ کے رہنما سید جان گچکی، مغوی شاہنواز گل کے کزن خلیل تگرانی، تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست، بارڈر ٹریڈ کے وارث بلوچ سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ بعد ازاں لوگ پُرامن طور پر منتشر ہوگئے

