تربت(گدروشیاپوائنٹ) حق دو تحریک بلوچستان ضلع کیچ کے صدر صادق فتح، مرکزی وائس چیئرمین حاجی ناصر علی، دیگر نے مشترکہ پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ بلوچستان میں روزگار کے مواقع پہلے ہی نہایت محدود ہیں، بالخصوص مکران کے عوام کیلئے معاش کے ذرائع تاریخی طور پر دو بنیادی ستونوں پر قائم رہے ہیں سمندر اور سرحد ساحلی علاقوں میں بسنے والے لوگ سمندر سے اپنی روزی روٹی حاصل کرتے رہے ہیں، جبکہ مکران ڈویژن بالخصوص ضلع پنجگور اور ضلع کیچ کے عوام کا قدیم اور تاریخی روزگار سرحدی تجارت سے وابستہ رہا ہے۔ یہ لوگ صدیوں سے اونٹوں اور گدھوں کے ذریعے مال برداری کر کے اپنے بچوں کیلئے رزق مہیا کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی و مشرقی بلوچستان کے دونوں اطراف بسنے والے لوگوں کی آپس میں خونی اور خاندانی رشتے بھی موجود ہیں۔ مگر سرحد پر باڑ اور فینسنگ لگائے جانے کے بعد نہ صرف روزگار بری طرح متاثر ہوا بلکہ ان خاندانی رشتوں پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ آج دونوں جانب کے لوگ ایک دوسرے کی خوشی و غمی میں شرکت سے محروم ہیں، جو شدید ذہنی اذیت اور دلی صدمے کا باعث بن رہا ہے۔ بارڈر پر باڑ لگانے کے بعد عوام کو خاموش کرانے کیلئے مختلف حیلے بہانے تراشے گئے۔ ابتدا ہی سے ہم نے بحیثیت تحریک، معاشی قدغنوں، محدود لسٹنگ، ٹوکن سسٹم اور مزدور و محنت کش طبقے کے ساتھ غیر انسانی و امتیازی سلوک کے خلاف مزاحمت کی۔ ٹوکَن سسٹم کے نفاذ کے وقت بھی سرحد سے منسلک بے شمار حقدار افراد کی حق تلفی کی گئی۔ اس کے بعد مزدوروں کو صرف چار دن روزگار کی اجازت دی گئی جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو چھٹی کے نام پر بارڈر بند رکھا جاتا تھا ایک غریب رجسٹرڈ گاڑی مالک کو ایک ٹوکن ملتا تو اگلی باری پچاس ساٹھ دن بعد آتی، جس سے بمشکل دو وقت کی روٹی ممکن ہوتی، کوئی باعزت گزر بسر نہیں۔ بعد ازاں ضلعی انتظامیہ اور عسکری حکام کی جانب سے سیاسی اختلافات کی بنیاد پر بارڈر ماسٹر لسٹ سے سینکڑوں گاڑیوں کو نکال کر بلاک کیا گیا۔ جبکہ نوجوانوں کو under age کے نام پر محروم کر دیا گیا، جو کھلی معاشی قتل کے مترادف ہے۔ یہ وہ نوجوان تھے جو سرکاری ملازمت یا امداد نہ ملنے کے باعث اپنی ماؤں، بہنوں اور بیویوں کے زیورات بیچ کر محنت مزدوری کر رہے تھے، مگر ان پر بھی قدغن لگا دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بارہا ان زیادتیوں اور معاشی ناکہ بندیوں سے ضلعی انتظامیہ اور عسکری حکام کو آگاہ کیا۔ مگر طفلی تسلیوں کے سوا کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ تمام مسائل جوں کے توں موجود رہے۔ اسی تسلسل میں 8 ستمبر 2025 کو سیکیورٹی وجوہات کی آڑ میں عبدوئی بارڈر کراسنگ پوائنٹ اچانک بند کر دیا گیا، جو پہلے عوامی مزاحمت کے بعد کھولا گیا تھا۔ عوام مسلسل انتظار کرتے رہے کہ بارڈر کھلے گا، مگر بندش طویل ہوتی گئی۔ پھر کبھی کپکپار دشت اور کبھی مند سوراپ کراسنگ پوائنٹ کے اعلانات کئے گئے، مگر عملی طور پر کچھ حاصل نہ ہوا۔ سوراپ کراسنگ پوائنٹ پر یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ عبدوئی کی طرح سابقہ پوزیشن بحال ہوگی، تجارت ایرانی کرنسی تومان میں ہوگی، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس نکلے۔ وہاں چند مخصوص گروہوں کو اجارہ داری میں دے دی گئی، عام مزدور کو ڈپو کھولنے یا کام کرنے کی اجازت نہیں، اور ریٹ بھی پاکستانی روپے میں مقرر کئے گئے، جو غریب محنت کش کے کسی کام کے نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگوں نے ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور حکومتی یقین دہانیوں پر انتظار کیا، مگر آج یہ واضح ہو چکا ہے کہ عوام کو تقسیم در تقسیم ان کی اجتماعی طاقت کو کمزور کرنے کیلئے یہ خربہ آزمایا گیا۔ حق دو تحریک بلوچستان کا بنیادی بیانیہ آزادانہ تجارت، بلا رکاوٹ بارڈر، قومی شناختی کارڈ پر روزگار، سابقہ پوزیشن کی بحالی اور تمام روایتی کراسنگ پوائنٹس کی بحالی سے ہم نہ پہلے دستبردار ہوئے ہیں اور نہ آئندہ ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ پانچ ماہ سے عبدوئی بارڈر مکمل بند ہے۔ غریب مزدوروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں، بچے بھوکے سوتے ہیں، غربت، جرائم اور بدامنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ طلباء وطالبات تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہیں، سنگین امراض میں مبتلا مریض علاج سے محروم ہیں۔ یہ سب ایک منظم معاشی ناکہ بندی کا نتیجہ ہے۔ آج FC کی جانب آن گراؤنڈ ویری فکیشن کا اعلان کیا گیا جبکہ بارڈر بند اور گاڑیاں بے کار کھڑی ہیں، مزدور طبقے کیلئے مزید اذیت کا باعث ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آن گراؤنڈ ویری فکیشن کا عمل فوری طور پر مؤخر کیا جائے بلاک شدہ under age اور سیاسی انتقام کی وجہ بلاک شدہ گاڑیوں ناموں کو پوری طور پر بحال کیا جائے بارڈر کو مکمل طور پر کھولا جائے اس کے بعد باہمی مشاورت سے آئندہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے انہوں نے کہاکہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں احتجاج، دھرنوں یا سڑکوں پر نکلنے کا کوئی شوق نہیں۔ مگر جب عوام معاشی بدحالی اور کسمپرسی کا شکار ہوں تو خاموش رہنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اسی لئے ہم لوگوں نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ یکم فروری 2026، بروز اتوار، صبح 11 بجے تربت پریس کلب سے شہید فدا چوک تک مرد و خواتین پر مشتمل پرامن ریلی نکالی جائے گی۔ ہم ضلع کیچ کے تمام سیاسی، سماجی اور عوامی اسٹیک ہولڈرز سیاسی جماعتیں، وکلاء، تاجر برادری، سول سوسائٹی، طلبہ تنظیمیں، بارڈر یونینز، ڈپو مالکان اور گاڑی مالکان سے اپیل کرتے ہیں کہ اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے اور بارڈر سابقہ پوزیشن پر بحال نہ ہوا تو
10 فروری 2026 سے شہید فدا مین چوک پر غیر معینہ مدت کیلئے پرامن دھرنا دیا جائے گا۔ پرامن سیاسی و جمہوری جدوجہد ہمارا آئینی حق ہے، اور ہم اپنے بنیادی حقوق کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے

