کراچی:بی وائی سی کی پریس کانفرنس روکنے کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر ناکہ بندی

کراچی(گدروشیا پوائنٹ) بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مبنی سالانہ رپورٹ کے اجرا کے سلسلے میں منعقد کی جانے والی پریس کانفرنس کو روکنے کے لیے اتوار کے روز کراچی پریس کلب کے اطراف میں سخت سیکورٹی انتظامات کے نام پر پولیس نے آنے اور جانے کے تمام راستے بند کر دیے۔ پریس کانفرنس اتوار، 25 جنوری کو سہ پہر 3 بجے کراچی پریس کلب میں ہونا تھی، تاہم پولیس ناکہ بندی کے باعث ابھی تک تقریب منعقد نہ ہو سکی۔
عینی شاہدین کے مطابق، کراچی پریس کلب جانے والے مرکزی راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، جبکہ مختلف مقامات پر رکاوٹیں اور ناکے قائم کر کے انسانی حقوق کے کارکنوں اور بی وائی سی کے رہنماؤں کو پریس کلب تک پہنچنے سے روک دیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق، پریس کانفرنس میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی سزاؤں، خواتین اور بچوں کو ہراساں کیے جانے سمیت انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں پر مبنی تفصیلی سالانہ رپورٹ پیش کی جانی تھی۔ رپورٹ میں گزشتہ ایک سال کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات، مستند اعداد و شمار اور متاثرہ خاندانوں کی عینی شہادتیں شامل تھیں۔ادھر اتوار کے روز سندھ پولیس نے بی وائی سی کی مرکزی رہنما سمی دین بلوچ، لالا وہاب بلوچ، فوزیہ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کو کراچی پریس کلب پہنچنے سے روکنے کے لیے مختلف مقامات پر ناکہ بندی کی۔