سید احسان شاہ، اصول، وقار اور عوام کے حق میں فیصلہ
تحریر: نادرشاہ ابرار
سید احسان شاہ کا پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کو انضمام سے قبل کی پوزیشن پر بحال کرنے کا اعلان دراصل اصولوں پر مبنی سیاست، فکری خودداری اور کارکن دوست قیادت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ فیصلہ کسی وقتی جذبات، ذاتی اختلاف یا اقتدار کی سیاست کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک گہری سیاسی سوچ اور زمینی حقائق کے ادراک کے بعد سامنے آیا ہے۔
پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کا بی این پی کے ساتھ انضمام ڈھائی سال قبل بلوچستان اور بلوچ قوم کے وسیع تر مفاد میں کیا گیا تھاجو اس بات کا ثبوت ہے کہ سید احسان شاہ نے ہمیشہ ذاتی یا جماعتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دی۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ واضح ہوگیا کہ دونوں جماعتوں کی سیاسی تربیت، تنظیمی مزاج اور جدوجہد کا طریقہ کار ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایسی صورت میں کسی غیر فطری سیاسی اتحاد کو زبردستی برقرار رکھنا نہ کارکنان کے حق میں ہوتا ہے اور نہ ہی سیاسی جدوجہد کے لیے سودمند۔
سید احسان شاہ کی یہ بصیرت قابل تحسین ہے کہ انہوں نے اختلاف کو تصادم میں بدلنے کے بجائے وقار، شائستگی اور باہمی احترام کے ساتھ اپنی جماعت کی علیحدہ شناخت بحال کی۔ یہ رویہ بلوچستان کی سیاست میں ایک مثبت روایت کو جنم دیتا ہے جہاں سیاسی اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ رائے کے فرق کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ سردار اختر جان مینگل اور بی این پی کے لیے عزت و احترام برقرار رکھنے کا اعلان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ علیحدگی کسی رنجش یا تلخی پر مبنی نہیں۔
کارکنان کو سوشل میڈیا پر منفی تبصروں، اشتعال انگیزی اور جذباتی زبان سے گریز کی ہدایت دینا ایک ذمہ دار اور مدبر قیادت کی نشانی ہے۔ آج کے دور میں جہاں سیاسی اختلاف اکثر ذاتی حملوں میں بدل جاتا ہے وہاں سید احسان شاہ کا یہ مؤقف سیاسی اخلاقیات کو مضبوط کرتا ہے۔
پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کی بحالی اس کے کارکنان کے اعتماد، نظریاتی وابستگی اور سیاسی حوصلے کو نئی توانائی دے گی۔ یہ جماعت اپنی جداگانہ شناخت، عوام دوست سوچ اور اعتدال پسند سیاسی لائن کے ساتھ بلوچستان کے عوام کے مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرسکے گی۔ سید احسان شاہ کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ وہ اقتدار کی نہیں بلکہ اصولوں کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور یہی وصف کسی بھی رہنما کو عوام کے دلوں میں مقام دلواتا ہے

