تربت(گدروشیا پوائنٹ)صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے تربت بلیدہ روڑ کا باقاعدہ افتتاح کردیا. اس موقع پر افتتاحی تقریب میں صوبائی مشیر برائے کھیل اور امور ،نوجوان مینذ مجید بلوچ، پارلیمانی سیکرٹری برائے توانائی میر اصغر رند، پارلیمانی سیکرٹری برائے ماہیگیری معتبر حاجی برکت رند ،سابق صوبائی وزیر خزانہ سید احسان شاہ، ڈسٹرکٹ کونسل کیچ کے چیئرمین میر ہوتمان بلوچ، پیپلز پارٹی کے ڈویژنل صدر ڈاکٹر برکت بلوچ پیپلز پارٹی کے ضلعی رہنما نواب شمبے زئی، پی این پی عوامی کے رہنما میر غفور احٹ بزنجو، تحصیل بلیدہ کے سماجی اور کاروباری شخصیت حاجی برکت بلیدی، حاجی زاہد رند سمیت ہزاروں کی تعداد میں عوام الناس کی بڑی تعداد افتتاحی تقریب میں شریک تھی.اس موقع پر پروجیکٹ ڈائریکٹر بلیدہ ٹاؤن بہرام گچکی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 33 کلومیٹر پر مشتمل بلیک ٹاپ روڑ کی چوڑائی 20 فیٹ جبکہ شولڈر اور برم کے ساتھ روڑ کی کل چوڑائ 32 کلومیٹر بنتی ہے تربت بلیدار روڈ کا تخمینہ تقریبا 2 ارب 74 کروڑ روپے تھا جبکہ اس 13 کروڑ روپے کی بچت کے ساتھ 2 ارب 61 کروڑ کی لاگت سے تیار کی گئی ہے جس میں 5 بڑے پل 67 چھوٹے کلورٹ پل بھی شامل ہیں۔۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے روڑ کے شولڑر کو کنکریٹ سے تعمیر کیا گیا ہے تاکہ بارشوں کی صورت میں روڑ کو نقصان نہ پہنچے۔ ایک عظیم الشان افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات اور پیپلز پارٹی بلوچستان کے سیکرٹری اطلاعات میر ظہور احمد بلیدی نے تقریب کے شرکاء سمیت تحصیل بلیدہ اور ضلع کیچ کے عوام کا شکریہ کہا کہ انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں افتتاحی تقریب میں شرکت کر کے ثابت کردیا کہ یہاں کے عوام کا حکومت بلوچستان نے ترقیاتی منصوبوں کو کتنا سپورٹ کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تربت بلیدا روڈ بڑی مشکلات اور امن و امان کی بدترین صورتحال کے باوجود پائے تکمیل کو پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ سخت سردی کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی اجتماع نے ثابت کر دیا کہ یہاں کے لوگ ترقی چاہتے ہیں انہوں نے کہا سوشل میڈیا میں پروپگنڈے کے باوجود بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا جلسہ میں انا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ ترقی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک سڑک نہیں ہے بلکہ یہ ترقی کی چابی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تربت بلیدہ روڈ کے علاوہ پورے حلقے کے لیے ایک ترقیاتی منصوبوں کا ایک پیکج شامل کیا ہے جس میں ہسپتال ہے سکول ،واٹر سپلائی، سکیمیں ڈیم اور دیگر بنیادی ڈانچے کے منصوبے شامل ہیں انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کے مشورے سے منصوبے بناتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم وہ منصوبے شروع کرتے ہیں جو انسانی زندگی پر مثبت اثرات ڈالتے ہیں اور لوگوں کی معاشی حالات اور صحت کی سہولیات میں بہتری لاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے حلقے میں تقریبا 40 سے 50 ارب روپے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جس میں عبدوئی اور سرکزی کے سرحدی شاہراہوں کی پر 8 ارب روپے کا منصوبہ سر فہرست ہے ۔انہون نے کہا کہ ان منصوبوں میں گیشکور ڈیم کے علاوہ بلیدہ بالگتر روڑ ، بلیدہ پروم روڑ، زعمران کے علاقے کو سڑکوں کے ذریعے بلیدہ سے منسلک کرنا بھی شامل ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ بطور عوامی نمائندہ یہ ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اپنے ورکروں کے قرض دار ہییں کہ ایسے ترقیاتی منصوبوں پر کام کریں جس سے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آئے ۔ اخر میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنے ترقیاتی منصوبوں کو بلیدہ کے علاوہ ضلع کیچ کے دیگر تحصیلوں میں تربت ، دشت ، تمپ میں وسعت دینگے تاکہ تمام علاقوں کو یکساں طور پر ترقی دیا جاسکے ۔اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت میں 26 جنوری کو گرین بسوں کا سروس شروع کیا جارہا ہے تاکہ تربت کے مسافروں کو بہترین ٹرانسپورٹ کے سہولیات دستیاب ہوسکیں ۔
اس موقع پر مینا مجید بلوچ نے تربت بلیدہ روڑ کی تکمیل پر تحصیل بلیدہ کے عوام کو مبارکباد پیش کی ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سڑک بلیدہ میں معاشی ترقی کا ذریعہ ثابت ہوگا انہوں نے صوبائی وزیر ظہور احمد بلیدی کی ستائش کی کہ انہوں نےبلیدہ کے عوام کے لیے سفری سہولیات کا منصوبہ کامیابی کے ساتھ پائے تکمیل کو پہنچایا اور لوگوں کو سہولیات کی گھر کے دہلیز پر پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ تربت بلدیہ روڈ کے افتتام میں عوام الناس کی اتنی بڑی تعداد کی شرکت نے ثابت کر دیا کہ میر ظہور احمد بلیدی ایک مقبول عوامی رہنما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باوجود سڑک کی تکمیل ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت کے لیے بہت بڑے منصوبے شروع کیے ہیں جس میں نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے علاوہ 30 ہزار لوگوں کو بیرون ملک روزگار فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے توانائی میر اصغر رند نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہا کہ اتنے لوگوں کے اجتماع نے ثابت کر دیا ہے کہ ظہور احمد بولے دی ایک مقبول لیڈر ہیں اور انہوں نے اپنے علاقے میں بے شمار ترقیاتی منصوبے شروع کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات نے جنوبی بلوچستان ترقیاتی پیکج کے حوالے سے علاقے میں بہت سے منصوبے شروع کروائے ہیں۔انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ اس سڑک کی تعمیر کے بعد علاقے میں تعلیم اور صحت کے حوالے سے لوگوں کو فائدہ ملیں گے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو اسکالرشپ فراہم کر رہی ہے اور محکمہ توانائی علاقے میں بجلی کے گرڈ اسٹیشن اور سولرائزیشن کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے مائی گیری حاجی برکت رند نے خطاب کرتے ہوئےکہ تربت بلیدہ روڑ کی تکمیل سے لوگوں کو سفری سہولیات میں بہتری آئیگی ۔انہوں نے کہا کہ اج کے افتتاحی تقریب سے ثابت ہوتا ہے کہ بلیدہ کے عوام پیر ظہور احمد بلیدی کے ساتھ ہیں اورعوام اب مخالفین کے جھوٹے پروپگنڈوں پر یقین نہیں رکھتے۔ اس موقع پر سابقہ صوبائی وزیر احسان شاہ نے خطاب کرتے ہوئے میر ظہور احمد بلیدی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے افتتاحی تقریب میں دعوت دیکر انکو عزت بخشی۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ اس اس سڑک کی تعمیر سے لاکھوں لوگوں مستفید ہوں گے انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے میر ظہور احمد بلیدی ایک وزنری لیڈر ہیں اور علاقے میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ سڑکوں اور شاہراہوں کا ایک جال بھی بچائیں گےتاکہ علاقے میں ٹرانسپورٹ کے سہولیات میں بہتری ائے گی. اس موقع پر پیپلز پارٹی کے ضلعی راہنما نواب شمبے زئی , پیپلز پارٹی کے ڈویژنل رائنما ڈاکٹر برکت بلوچ ، تحصیل بلیدہ کی سماجی شخصیت حاجی برکت بلیدی آور معروف وکیل ایڈوکیٹ مجید شاہ اور دیگر نے تربت بلیدہ روڑ کی تکمیل کو خوش آئند قرار دیا اور امید کا اظہار کیا کہ تحصیل بلیدہ میں دیگر ترقیاتی منصوبوں کے تکمیل سے علاقے میں خوشحالی آئیگی اور لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوگی.

