دالبندین (گدروشیا پوائنٹ) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما و سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ نے دالبندین میں دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور اسکے ساتھیوں کا جرم یہ ہے وہ صرف یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے لاپتہ پیاروں کو منظر عام پر لایا جائے جن پر جو کوئی مقدمہ ہے انہیں عدالتوں میں پیش کریں ماہ رنگ بلوچ اور اسکے ساتھیوں کو بغیر کسی جرم کے گزشتہ ایک سال میں قید میں رکھا گیا ہے حالانکہ لاپتہ افراد کے مسلے پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان نے کہی بار واضح کیا تھا کہ لاپتہ افراد کا مسلہ روز بروزِ سنگین ہوتا ہے جنکے پیارے غائب ہے انہیں منظر عام پر لایا جائے جس نے کوئی جرم کیا ہے تو ملک میں عدالتیں موجود ہے عدالتوں کے ذریعے ان پہ مقدمہ چلایا جائے نہ کہ اس طرح بغیر کسی جرم کے کسی کو اٹھا کر غائب کر دیا جائے انہوں نے کہا کہ بلوچستان وسائل سے مالا مال امیر ترین خطہ ہے آج گوادر کی وجہ سے سی پیک ہے مگر خود بلوچستان کے لوگ آج بھی پسماندگی اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں انہوں نے کہا پاک ایران و پاک افغان بارڈر جو کہ بلوچوں اور پشتونوں کا ذریعہ معاش ہے انہیں بھی بند کرکے یہاں کے لوگوں کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا گیا ہے افغانستان میں جب اشرف غنی اور حامد کرزئی کی حکومت تھی بم دھماکوں کی گن گرج تھی تو اس وقت ہمارے حکومت نے بارڈر بند نہیں کی آج افغانستان میں مکمل امن ہے تو ہمارے حکمران امن و امان کا بہانہ بنا کر بارڈر بند کر رہے ہیں مگر اصل میں یہ امریکہ کے پٹو ہے یہ ٹرمپ کی تابعداری کرکے اسی کی ایما پر پاک افغان بارڈر بند کر رہے ہیں جو کہ کسی صورت قابل قبول نہیں.

