میراتھن ریس/ مکران میں تاریخ رقم/ رپورٹ اور تصویری جھلکیاں

تربت (نمائندگان/ گدروشیا پوائنٹ) تربت میں مکران ڈویژن کی تاریخ رقم ہو گئی جہاں پہلی بار میراتھون ریس کا انعقاد کیا گیا۔ سینکڑوں نوجوانوں اور شہریوں نے جوش و خروش کے ساتھ اس تاریخی دوڑ میں حصہ لیکر اسے دلچسپ اور یادگار بنا دیا یہ ریس ضلعی انتظامیہ کیچ کے زیرِ اہتمام جاری 12 روزہ کیچ #اسپورٹس #فیسٹیول کا حصہ تھی۔ جس نے پورے شہر کو کھیلوں کے رنگ بکھیر دیا ہے۔ میراتھون میں شریک شرکاء نے خوشی، ولولے اور اسپورٹس مین اسپرٹ کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ریس کے آغاز کے مرحلے میں کمشنر مکران قادر بخش پِرکانی، ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ، میونسپل کارپوریشن تربت کے میئر بلخ شیر قاضی، فیسٹیول سیکرٹری التاز سخی، اسسٹنٹ کمشنر تربت حنیف کبزئی، اسسٹنٹ کمشنر تمپ شیہک حیات، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر امجد شہزاد، اسپورٹس آفیسر غفار یوسف اور دیگر شخصیات شامل رہے۔ تاریخی میراتھون ریس کا آغاز پولیس تھانہ روڈ، ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے سامنے سے ہوا جو شہر کی سٹی پولیس تھانہ چوک، کالج روڈ سے گزرتی ہوئی، تعلیمی چوک، ایئرپورٹ روڈ کے راستے فٹبال اسٹیڈیم کے قریب وِننگ پوائنٹ پر اختتام پذیر ہوئی۔ مقابلے میں جوسک تربت کے ایاز بلوچ نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ پنجگور کے محمد جان بلوچ دوسرے نمبر پر رہے جبکہ ملک آباد تربت کے ادیب نسیم نے تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔ اس موقع پر دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے نوجوان محمد جان بلوچ نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ایسے ایونٹس نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرتے ہیں اور کھیلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔فیسٹیول کے پیٹرن اِن چیف اور ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے کامیاب شرکاء میں انعامات تقسیم کرتے ہوئے پہلی پوزیشن کے لیے ایک لاکھ روپے، دوسری پوزیشن کے لیے پچاس ہزار روپے جبکہ تیسری پوزیشن کے لیے پچیس ہزار روپے نقد انعام کا اعلان کرکے چیک کارڈ پیش کیا میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کیچ میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ایسے صحت مند اور مثبت ایونٹس کا انعقاد مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا. تقسیمِ انعامات کی تقریب کے دوران میئر تربت بلخ شیر قاضی نے ڈی سی کی جانب سے پہلی پوزیشن کو ایک لاکھ روپے کا چیک کارڈ پیش کیا۔ جبکہ کامیاب اسپورٹس فیسٹیول اور میرا تھون ریس کے انعقاد پر ایف سی کمانڈنٹ مکران اسکاؤٹس بریگیڈیئر عمر طاہر نے آئی جی ایف سی میجرجنرل بلال سرفراز خان کی جانب سے فیسٹیول کمیٹی کو تعاون کیلئے دس لاکھ روپے کا چیک پیش کیا جس پر فیسٹول کے پیٹرن اِن چیف بشیر احمد بڑیچ نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ میراتھون ریس کے دوران سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات کیے گئے تھے جبکہ پولیس اور ایف سی کے جوانوں نے روٹ پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ میراتھن ریس کے موقع پر والی بال منیجر ظریف رند، معروف اسپورٹس شخصیت عبدالرحیم، چیف آفیسر تربت شعیب ناصر، ڈی ایچ او ڈاکٹر عبدالروف بلوچ ، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر امتیاز سخی، ایم ایم ڈی کیچ کے ڈپٹی ڈائریکٹر شعیب اکرم، چیف آفیسر دشت عبداللہ بلوچ ، اسپورٹس سپروائز حبیب مراد دشتی، کیپٹن چاکر بلوچ ، کیپٹن مجاہد نور، سجاد جی ایم، تربت یونیورسٹی کے پروفیسرز مظہر گچکی، شاہ میر بلوچ، کمشنر مکران کے پی اے ناصر حسن دشتی سمیت مختلف محکموں کے افسران، سینئر کھلاڑی و شخصیات، آل پارٹیز کیچ اتحاد کے کنوینئر نواب شمبے زئی، مشکور انور، خلیل تگرانی، کونسلر و ٹرانسپورٹر نصیر اسماعیل، ٹھیکیدار زبیر رند، سردار ولی خان یلانزئی اور دیگر مختلف مکاتب فکر کی شخصیات شامل رہے جنہوں نے شرکاء کی حوصلہ افزائی کی۔ اختتام کے موقع ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے گدروشیا پوائنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ تربت میں میراتھن ریس جو ہم نے کیا ہے جہاں پہ ضلع پنجگور اور گوادر سے بھی لوگوں نے حصہ لیا میں بہت خوش ہوں کہ پہلی دفعہ میرا تھن ریس کو ہم نے متعارف کرایا مکران ڈویژن میں۔ الحمدللہ بچوں، اسپورٹس مینز کا کھلاڑیوں کا، سکول کے بچوں کا جو سپرٹ میں نے دیکھا ہے حتی کہ دو اٹھ سال نو سال کے بچے دیکھے جنہوں نے پانچ کلومیٹر کا ٹریک رن واک رن کر کے کمپلیٹ کیا یہ سپیرٹ جو ہے یہ بالکل بہت زیادہ ان پریسیڈنٹڈ ہے۔ ماشاءاللہ سے جو سپرٹ کا مظاہرہ لوگوں میں کیا ہے بہترین اور کمال کیا ہے بہت زبردست اور میں اسی طرح پورا مکران ڈویژن کو کہوں گا کہ اسی طرح پھلے پھولے، ترقی کرے اور اسی طرح کے صحتمند سرگرمیوں میں حصہ لیا کریں تو انشاءاللہ العزیز اس ملک اور بلوچستان کا انشاءاللہ بہت بڑا نام ہوگا . جبکہ سیکرٹری التاز سخی نے گدروشیا پوائنٹ بتایا کہ تربت کی تاریخ کا سب سے بڑا سپورٹس فیسٹیول کیچ میں منعقد ہو رہا ہے اور اج کی تربت اور مکران کی تاریخ کا پہلا اور سب سے بڑا میرا تھن ریس تھا ہزاروں لوگوں کی شرکت نے یہ دکھا دیا کہ تربت کے لوگ شعوری جسمانی اور عقلی طور پر بہت متحرک ہیں ہر وہ نئی جذبہ ہر وہ نئی سوچ ہر وہ پروگریسو سوچ جو دنیا میں موجود ہے کیچ کے لوگ اس کو اپناتے ہیں اس میں بھرپور شرکت کرتے ہیں اور اس میرا تھن نے یہ ثابت کیا کہ کیچ ایک مضبوط منظم ایک سوسائٹی ہے اور انشاءاللہ یہ اگے بڑھتا رہے گا انہوں نے کہاکہ اس دور مقابلے میں ہماری ایکسپیکٹیشن یہ تھی کہ کیچ کے نوجوان کیچ کے بزرگ کیچ کے سارے صحت مند لوگ ایک میسج لے کے جائیں کہ تعلیمی یافتہ لوگوں کا شہر ہے۔ ترقی یافتہ شہر ہے اور ہم اس عمل کو اپناتے ہیں جو دنیا کی ترقی بہتری خوشی کے لیے ہوتی ہے اور اس سے ہم اور اج کی محنت میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کر کے یہ ثابت کر دیا کہ ہم زندہ قوم ہیں ہکیچ زندہ لوگوں کی سر زمین ہے اور ہمیشہ شاد اباد رہے۔ اپنے تاثرات میں اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، میئر تربت بلخ شیر قاضی، اسپورٹس آفیسر غفار یوسف، چیف آفیسر شعیب ناصر، ایڈووکیٹ مجید دشتی، سردار ولی خان یلانزئی، ٹھیکیدار زبیر رند اور فیسٹول کمیٹی کے متحرک رکن عومر ہوتا نے گدروشیا پوائنٹ چینل کو بتایا کہ مکران ڈویژن میں پہلی بار میراتھن ریس کا انعقاد محض ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، فکری اور فیٹنسں کے حوالے سے اصلاحی قدم ثابت ہوا ہے تربت میں منعقدہ یہ میراتھن ریس اس بات کی واضح مثال ہے کہ اگر ڈی سی کیچ کی طرح بلوچستان کی انتظامیہ درست سمت میں فیصلہ کرے تو محدود وسائل کے باوجود مثبت سماجی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میراتھون ریس نے معاشرے میں جسمانی صحت، ورزش اور متحرک طرزِ زندگی کی اہمیت کو عملی طور پر اجاگر کیا ہے۔ بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کی بھرپور شرکت نے یہ پیغام دیا کہ صحت مند سرگرمیاں کسی ایک طبقے تک محدود نہیں ہوتیں۔ کم عمر کے بچوں کا پانچ کلومیٹر ٹریک مکمل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مواقع فراہم کیئے جائیں تو نئی نسل میں غیر معمولی صلاحیتیں ابھر سکتی ہیں۔ بلوچستان جیسے خطے میں جہاں نوجوانوں کو اکثر منفی سرگرمیوں سے جوڑا جاتا ہے وہاں ہزاروں نوجوانوں کا میراتھن میں حصہ لینا ایک مثبت بیانیہ تشکیل دیتا ہے۔ یہ سرگرمی نوجوانوں کو منشیات، غلط سوسائٹی، تشدد، مایوسی اور بے سمتی کے بجائے امید، نظم و اتحاد اور مقابلے کی فضا سے جوڑتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کامیاب میراتھون ریس نے یہ ثابت کیا کہ کیچ اور مکران ایک تعلیم یافتہ، باشعور اور ترقی پسند معاشرہ ہے جو دنیا میں رائج جدید اور مثبت رجحانات کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہزاروں افراد کی منظم شرکت نے یہ تاثر زائل کر دیا کہ مکران کے لوگ سماجی سرگرمیوں میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کیچ #بشیراحمدبڑیچ کا مکران ڈویژن میں پہلی بار میراتھن ریس متعارف کرانے کا فیصلہ ایک #دوراندیش، جرأت مندانہ اور عوام دوست اقدام ثابت ہوا۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ محض روایتی دفتری امور تک محدود نہیں بلکہ عوامی فلاح، صحت اور نوجوانوں کی تعمیر پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے ایونٹس سے عوام اور انتظامیہ کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ انتظامیہ ان کی صحت، تفریح اور مثبت مصروفیات کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے تو حکومتی اداروں اور انتظامیہ پر اعتماد مضبوط ہوتا ہے جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کیلئے بنیادی ستون ہے اؤر پنجگور اور گوادر سمیت مختلف علاقوں سے شرکاء کی شرکت نے مکران ڈویژن میں بین الاضلاعی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ یہ ریس صرف تربت کا ایونٹ نہیں رہی بلکہ پورے مکران کی مشترکہ پہچان بن گئی۔ انہوں نے گدروشیا پوائنٹ سے گفتگو میں بتایا کہ یہ میراتھن ریس ایک نقطۂ آغاز ہے۔ اگر اس روایت کو برقرار رکھا گیا تو مستقبل میں مکران قومی اور صوبائی سطح کے کھلاڑی پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے فروغ سے سیاحت، مقامی معیشت اور مثبت تشخص کو بھی تقویت ملے گی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے میراتھون ریس کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ صحت مند، متحرک اور باشعور معاشرے سے ہوتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کا یہ فیصلہ نہ صرف موجودہ نسل کیلئے فائدہ مند ہے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے بھی ایک صحت مند روایت کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہ ایونٹ واضح پیغام دیتا ہے کہ کیچ اور مکران ایک زندہ، منظم اور ترقی کی راہ پر گامزن قوم کی سرزمین ہے جہاں مثبت سرگرمیوں کو بھرپور پذیرائی ملتی ہے۔