تربت (گدروشیاپوائنٹ)بلوچستان کانسٹیبلری (BC) کے ملازمین نے ایک جاری پریس ریلیز میں کہاہے کہ آپ کے علم میں یہ بات یقیناً ہوگی کہ بلوچستان کانسٹیبلری کے افسران کی جانب سے ایک نئی پالیسی مرتب کی گئی ہے، جس کے تحت ہر ملازم کا چھ (6) ماہ بعد کسی دوسرے زون یا ضلع میں تبادلہ کیا جائے گا۔ تاہم اس پالیسی کے تحت جوانوں اور ملازمین کو کیا فوائد حاصل ہوں گے، اس بارے میں کوئی واضح وضاحت موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہاہےکہ بلوچستان کانسٹیبلری کے تمام ملازمین کی جانب سے چند نہایت اہم اور ضروری امور آپ کی خدمت میں پیش کرنے ہے۔ چونکہ آپ محکمہ پولیس کے سربراہ ہیں، اس لیے ہم آپ سے انصاف اور داد رسی کی پوری امید رکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ محکمہ بلوچستان کانسٹیبلری میں بڑی تعداد میں عمر رسیدہ، بیمار اور معذور ملازمین بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مجوزہ پالیسی میں ایسے ملازمین کے لیے کسی قسم کی رعایت یا استثنا کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟اگر محکمہ کی نیت تبادلہ جات پر عمل درآمد کی ہے تو سب سے اہم سوال یہ ہے کہ (TTA) یعنی ٹرانسفر و ٹریول الاؤنس کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟ (TTA) ملازمین کا بنیادی حق ہے۔ پولیس رولز کے مطابق، اگر کسی ملازم کا تبادلہ محکمہ اپنی ضرورت کے تحت کرتا ہے تو محکمہ اس ملازم کو (TTA) ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔اس سے قبل سابقہ کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری کے دور میں بھی تمام ملازمین کے آؤٹ ڈسٹرکٹ تبادلے کیے گئے تھے، مگر اس پالیسی کے تحت آج تک کسی بھی ملازم کو (TTA) ادا نہیں کیا گیا۔ یہ ملازمین کے ساتھ صریح حق تلفی ہے۔ اس حوالے سے واضح اور منصفانہ پالیسی کیوں مرتب نہیں کی جا رہی؟ اگر ایسی پالیسی بنانا ناگزیر ہے تو یہ صرف بلوچستان کانسٹیبلری (BC) کے لیے ہی کیوں؟ ڈسٹرکٹ پولیس کے لیے اسی نوعیت کی پالیسیاں کیوں نافذ نہیں کی جا رہیں؟ موجودہ دور کی شدید مہنگائی میں ملازمین بمشکل دو وقت کی روٹی کا انتظام کر پا رہے ہیں۔ اگر کسی ملازم کا دوسرے زون میں تبادلہ کر دیا گیا تو اس کے لیے گھر کا چولہا جلانا بھی مشکل ہو جائے گا، اور اس کے اہلِ خانہ بنیادی ضروریات سے محروم ہو جائیں گے. خدارا ملازمین کو اپنا سمجھیں، ان کی مجبوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دیں۔ ایسی پالیسیاں بنائیں جو ملازمین کے لیے سہولت اور خیر کا باعث بنیں، نہ کہ بددعاؤں کا سبب۔انہوں نے کہاہے کہ تمام ایسی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کی جائے جن سے ملازمین کی تذلیل، ذہنی دباؤ اور مشکلات میں اضافہ ہو۔ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں جو ملازمین اور محکمہ، دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔ہم مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ ملازمین کے مسائل کو ہمدردی اور انصاف کے ساتھ سنا جائے۔

