بلوچستان میں ٹیلنٹ کی ناقدری, ایک تلخ حقیقت

بلوچستان میں ٹیلنٹ کی ناقدری, ایک تلخ حقیقت

تحریر: ماہ نور شاہ
بلوچستان میں باصلاحیت اور قابل افراد کی کمی ہرگز نہیں، بلکہ یہ خطہ ذہانت، صلاحیت، محنت اور قابلیت سے مالا مال ہے۔ یہاں کے نوجوان تعلیمی میدان میں بھی کسی سے کم نہیں، مگر بدقسمتی سے اس صوبے میں ٹیلنٹ کی وہ قدر نہیں کی جاتی جس کا وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہے۔ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس کا سامنا آج بلوچستان کا تقریباً ہر تعلیم یافتہ نوجوان کر رہا ہے۔
بلوچستان کے نوجوان اعلیٰ ڈگریاں، تجربہ اور عملی صلاحیت رکھنے کے باوجود روزگار کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہاں تعلیم، تجربہ اور میرٹ کی بجائے طاقت، سفارش، تعلقات اور سیاسی اثر و رسوخ کو فوقیت دی جاتی ہے۔ نتیجتاً وہ افراد جو محض طاقت اور رسوخ کے بل بوتے پر آگے آتے ہیں، اہم اور بااثر عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں، جبکہ اصل اہل اور قابل افراد مزدوری، معمولی ملازمتوں یا بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہ صورتحال نہ صرف فرد کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں بھی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ جب ایک تعلیم یافتہ اور تجربہ کار نوجوان اپنی قابلیت کے مطابق مقام حاصل نہیں کر پاتا تو اس کے اندر مایوسی، بے بسی اور ناامیدی جنم لیتی ہے۔ یہی ناامیدی آگے چل کر معاشرتی مسائل، ذہنی دباؤ اور منفی سوچ کو فروغ دیتی ہے۔ کئی باصلاحیت نوجوان مجبوری کے تحت اپنا صوبہ چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، یوں بلوچستان اپنے قیمتی انسانی وسائل سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں ادارہ جاتی کمزوری، شفاف نظام کی عدم موجودگی اور میرٹ کے فقدان نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں بھرتیوں اور ترقیوں کا عمل اکثر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ میرٹ کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور اہل امیدوار محض تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت ہونے کے باوجود انہیں مناسب مواقع، رہنمائی اور پلیٹ فارم میسر نہیں۔ اگر یہی ٹیلنٹ کسی دوسرے صوبے یا ملک میں ہو تو وہاں اسے سراہا جاتا ہے، مواقع دیے جاتے ہیں اور آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا جاتا ہے، مگر یہاں قابل ہونا جرم بن جاتا ہے اور سوال اٹھانا گستاخی سمجھا جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان میں میرٹ پر مبنی نظام کو فروغ دیا جائے، شفاف بھرتیوں کو یقینی بنایا جائے اور باصلاحیت نوجوانوں کو ان کی قابلیت کے مطابق مواقع فراہم کیے جائیں۔ حکومت، اداروں اور فیصلہ سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی خطے کی ترقی کا انحصار اس کے انسانوں پر ہوتا ہے، نہ کہ طاقت یا سفارش پر۔ جب تک ٹیلنٹ کو آگے بڑھنے کا حق نہیں دیا جائے گا، بلوچستان ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہی رہے گا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلوچستان کے نوجوان مایوس نہیں، بلکہ مواقع کے منتظر ہیں۔ اگر ان پر اعتماد کیا جائے، انہیں سنا جائے اور میرٹ کی بنیاد پر آگے آنے دیا جائے تو یہی نوجوان بلوچستان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم ٹیلنٹ کو دبانے کے بجائے اسے ابھاریں، کیونکہ زندہ قومیں اپنے قابل لوگوں کو پہچانتی اور آگے لاتی ہیں۔