بلوچستان مکران میں آرٹ، کلچر اور میوزیم کا زوال
تحریر :جلال غنی
اسباب اور خدشات
آرٹ، کلچر اور آثارِ قدیمہ کسی بھی قوم اور ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی عناصر قوم کی شناخت، فکری بنیاد اور مستقبل کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں، اور ہماری تاریخ کتنے ہزار سال قدیم ہے۔
ہماری اولاد کا طرزِ زندگی، سوچ، جدوجہد اور تخلیقی رویے کیا تھے—یہ سب کچھ ہماری تہذیبی یادداشت میں محفوظ ہوتا ہے۔
جو قوم اپنی تاریخ اور ثقافت سے کٹ جاتی ہے، وہ رفتہ رفتہ اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہے۔ زبان، آرٹ، لوک کہانیاں، لباس، موسیقی اور رسم و رواج سماج میں تسلسل پیدا کرتے ہیں اور نسلوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ یہ عناصر سماجی انتشار کے بجائے ہم آہنگی کو جنم دیتے ہیں۔
آرٹ انسان میں سوال اٹھانے کی جرات، خوبصورتی کی پہچان اور تخلیقی سوچ کو فروغ دیتا ہے۔ جس معاشرے میں آرٹ زندہ ہوتا ہے، وہاں تشدد کم اور مکالمہ زیادہ ہوتا ہے۔
آثارِ قدیمہ محض کھنڈرات نہیں بلکہ خاموش دستاویزات ہیں، جو اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ہماری زمین علم، تجارت اور تہذیب کا ایک اہم مرکز رہی ہے۔ مکران کی تہذیب عالمی تاریخ کا حصہ رہی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ بنا کر سیاحت، تحقیق اور عجائب گھروں کے ذریعے نہ صرف شناخت بلکہ معیشت کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج اکیسویں صدی، سنہ 2026 میں بھی تربت (کیچ) جیسے ضلعی ہیڈکوارٹر میں کلچر اور میوزیم کے نام پر اگرچہ عالی شان عمارتیں تو کھڑی کی گئی ہیں، مگر نہ ان میں زبان، موسیقی، آرٹ یا آثارِ قدیمہ کے ماہرین کی آسامیاں دی گئی ہیں، نہ ہی ان اداروں کے لیے کوئی باقاعدہ سالانہ فنڈ مختص کیا جا رہا ہے۔
اس کے برعکس کیچ، تربت میں رضاکارانہ بنیادوں پر موسیقی، آرٹ، خطاطی، مجسمہ سازی، پینٹنگ اور سائن بورڈ سازی کی کلاسیں گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہیں۔ ان کلاسوں میں بلوچی موسیقی کے تقریباً تمام قدیم و جدید ساز سکھائے جاتے ہیں۔
سروز—جو بلوچی موسیقی کا قدیم ساز ہے—اس کے استاد عارف مزار، دمبورگ کے استاد زاہد سادابادی، بینجو کے استاد کریم داد،
تبلہ ماسٹر مجیب رحیم اور ہارمونیم و گائیکی کے استاد شوکت مراد صاحب جیسے نامور فنکار بغیر کسی سرکاری مدد کے، اپنی مدد آپ کے تحت، رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ان کی محنت سے کئی نوجوانوں نے کلچر اور آرٹ کے شعبے میں مہارت حاصل کی، اور بعض نے یونیورسٹیوں میں داخلے بھی لیے۔ مگر افسوس کہ کلچر ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام—جو کوئٹہ میں ذمہ دار کرسیوں پر براجمان ہیں—زمینی حقائق اور اپنی ذمہ داریوں سے شاید غافل نظر آتے ہیں۔
میں صوبائی محکمۂ ثقافت سے پُرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ:
ان تمام اساتذہ کے لیے، جو برسوں سے بغیر معاوضہ خدمات انجام دے رہے ہیں، فوری طور پر باقاعدہ آسامیاں تخلیق کی جائیں۔
جو طلبہ مقررہ مدت میں مہارت حاصل کریں، انہیں سرکاری تصدیق شدہ اسناد فراہم کی جائیں۔
کیچ کے کلچر، آرٹ اور میوزیم کے لیے باقاعدہ سالانہ فنڈ مختص کیا جائے۔
مکران کے تمام قدیم آثار—چاہے وہ دشت، میری کلگ، شاہی تمپ یا کسی اور علاقے میں ہوں—انہیں فوری طور پر چار دیواری اور قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
اگر ہم نے آج اپنے ثقافتی ورثے کو نہ بچایا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ کلچر اور آثارِ قدیمہ صرف ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ ہمارے مستقبل کی ضمانت ہیں۔

